مشرق وسطیٰ

غزہ بچوں کا قبرستان بن گیا ہے: ترجمان یونیسف جیمز ایلڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے ’یونیسف‘ نے منگل کو خبر دار کیا ہے کہ غزہ بچوں کا قبرستان بن گیا ہے۔

یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے یہ بات منگل کو جینوا میں پریس بریفنگ کے دوران بتائی اور کہا کہ نومولود بچوں کی اموات کی وجہ پانی کی قلت ہے۔

یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا ہے کہ غزہ کے 11 لاکھ بچے ایک ڈراؤنے خواب سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے جنگ بندی اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے غزہ تک رسائی کے تمام مقامات کھولنے کا مطالبہ کیا۔

یونیسف کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں 940 بچے لاپتہ ہیں۔

غزہ میں وزارت صحت نے منگل کو کہا کہ سات اکتوبر کے بعد سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری اور فضائی حملوں سے اب تک 8,525 افراد کی جان جا چکی ہے جن میں 3,542 بچے شامل ہیں۔

اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں 15 ہسپتال اور 32 صحت کے مراکز اب فعال نہیں رہے جب کہ بمباری کے دوران محکمہ صحت کے 130 اہلکار بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں