غزہ پر حکومت کون کرے گا؟ یورپ میں غزہ کے حوالے سے کیا تانے بانے جوڑے جا رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر شدید لڑائیوں اور مسلسل اسرائیلی حملوں کے باوجود بعض یورپی ممالک نے جنگ کے بعد کے آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔

کئی یورپی ممالک نے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی انتظامیہ کو بین الاقوامی بنانے علاقہ قرار دینے کے آپشن پر تبادلہ خیال کیا۔ اس فارمولے میں غزہ کا انتظام چلانے اقوام متحدہ کے تعاون سے بین الاقوامی اتحاد کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

منگل کے روز العربیہ/الحدث کی طرف سے حاصل کردہ دستاویز جسے جرمنی نے تیار کیا تھا اور کئی یورپی ممالک میں تقسیم کیا تھا۔ اس میں تجویز کیا گیا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ایک بین الاقوامی اتحاد کے سپرد کی جائے۔

انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ یہ اتحاد سرنگوں کے نظام کو بھی ختم کرے گا اور غزہ میں ہتھیاروں کی اسمگل روکےگا۔

حماس کی مدد کے ذرائع مسدود کرنا

اس کے علاوہ اس دستاویز نے اندھا دھند بمباری کے اثرات سے خبردار کیا، اور غزہ میں نازک سرجیکل آپریشن کی تجویز دی گئی ہے۔

اس میں اسرائیل کی حماس کو فوجی طریقے سے ختم کرنے کی صلاحیت پر شک کا اظہار کیا گیا ہے۔

تجویز میں مالی اور سیاسی طور پر حماس کی حمایت کے ذرائع کو خشک کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درمیانی مدت میں غزہ کے استحکام کی ضمانت صرف امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے سے دی جا سکتی ہے، جس کے لیے امریکہ، یورپی یونین اور عرب ممالک جیسی بڑی قوتوں کی شمولیت کی ضرورت ہے۔

گذشتہ ہفتےبرسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے دوران یورپی رہ نماؤں کی بات چیت نے غزہ کے مسئلے پر دفاعی بلاک کے رکن ممالک کے درمیان تقسیم کی حد کو ظاہر کیا۔

یوروپی یونین کے رہ نماؤں نے "انسانی ہمدردی کی راہداری" کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک متفقہ پوزیشن تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹوں تک بات چیت کی لیکن جنگ بندی کے مطالبے تک نہیں پہنچی۔

یورپی تقسیم

متعدد شرکاء کے درمیان الزامات کے تبادلے نے جنگ کے حوالے سے یونین کے اندر جاری تقسیم کا ایک اور اشارہ بھی ظاہر کیا۔

بیلجیئم، فرانس اور اسپین سمیت یورپی یونین کے آٹھ ممالک نے "فوری انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی" کا مطالبہ کرنے والی ایک غیر پابند قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

جبکہ یورپی یونین کے چار دیگر رکن ممالک کے علاوہ آسٹریا اور ہنگری نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ جرمنی، اٹلی اور ہالینڈ سمیت 15 ممالک نے ووٹنگ سے پرہیز کیا۔

جبکہ اسرائیل اور امریکا نے قرارداد پر تنقید کی کیونکہ اس میں حماس کا ذکر نہیں تھا!

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں