فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل ۔۔ معاشی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، حکومت غیر ضروری اخراجات روکے

300 معاشی ماہرین نے نیتن یاہو اور وزیر خزانہ کو خط لکھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے تین سو اہم ماہرین اقتصادیات نے اسرائیل کو جاری جنگ کے حوالے سے معاشی چیلنجوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے لیے آنے والے دنوں میں دسیوں ارب شیکل کے اخراجات کرنا پڑیں گے۔

ان ماہرین معیشت کے مطابق حکومت کو اپنے غیر ضروری خرچے فوری طور پر کم کرنے چاہییں۔ اسرائیلی ماہرین معیشت نے اس بارے میں وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر خزانہ بیزالیل سموتریچ کو ایک انتباہی خط لکھا ہے۔ معاشی مسائل کے بڑھنے کا انتباہ کرنے والے ماہرین معیشت میں سابق گورنر بنک آف اسرائیل بھی شامل ہیں۔

واضح رہے نیتن یاہو کے انتہائی پسند اتحادیوں کے تعاون سے قائم شدہ حکومت نے شروع میں ہی انتہا پسند یہودیوں کے لیے خطیر رقم مختص کر رکھی ہے۔ کم از کم 9 ارب شیکلز انتہائی انتہا پسندوں کی خوشنودی کے لیے منتقل کیے جا سکتے ہین۔ نیتن یاہو کے معاشی مشیر کے مطابق محض نمائشی تبدیلیوں کے ساتھ ضرورتوں کے چینلج کو پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہیں خدشہ ہے کہ حکومت کو جلد ہی ضرور چیلنجوں کا سامنا ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ شہریوں کا اپنی اہلیت پر اعتماد بڑھانے کے لیے ابھی سے کوششیں شروع کر دی جائیں۔

اس سلسلے میں جن بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے کہ ان تمام معاشی امور پر اخراجات کو فوری طور پر روک دیا جائے۔ جن کی نوعیت لازمی اور جنگی نہیں ہے۔ فوری اخراجات صرف جنگی ضروریات اور معاشی بحالی کے لیے کیے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں