فلسطین اسرائیل تنازع

جنگ کے آغاز کے بعد غزہ پر اسرائیل کی شدید بمباری، انٹرنیٹ مکمل بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلسل 26ویں روز بھی جنگ جاری ہے، اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساحلی شہر پر 5 محاذوں سے حملہ کیا۔ اس دوران شدید فضائی حملے اور توپ خانے سے شیلنگ کی گئی۔ علاقے میں مواصلاتی نظام مکمل طورپر منجمد ہے۔ انٹرنیٹ اور فون سروس معطل ہے۔ تازہ بمباری غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی اب تک کی شدید ترین کارروائی ہے۔

العربیہ اورالحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کی پٹی میں بیت حانون کراسنگ پر اسرائیلی فوج اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں اپنی دراندازی کے علاقوں میں لائٹنگ بم برسائے۔ العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیلی افواج خان یونس کے مشرق میں عبسان قصبے کی طرف پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہیں۔

غزہ کے شمال مغرب میں کراما کے علاقے میں بھی پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جب کہ پٹی کے جنوب مشرق میں الزیتون محلے میں پرتشدد اسرائیلی بمباری دیکھنے میں آئی۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوجیں شمالی غزہ کے الکراما محلے میں پہنچی ہیں۔

دریں اثنا فلسطینی وزارت مواصلات نے غزہ کی پٹی کے ساتھ تمام مواصلاتی اور انٹرنیٹ خدمات کے مکمل طور پر بند ہونے کی تصدیق کی ہے۔

غزہ میں جبالیا قتل عام کا ایک منظر
غزہ میں جبالیا قتل عام کا ایک منظر

فلسطینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی حملے میں 400 سے زائد افراد شہیید اور زخمی ہوئے۔اس کے کچھ دیر بعد علاقے میں مواصلاتی سروسز بند کردی گئی ہیں۔

رہائشی محلہ صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا

غزہ میں وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جبالیہ کیمپ کے وسط میں ایک پورے رہائشی محلے کو تاخت وتاراج کر دیا۔

یہاں پر چھ بھاری بھرکم بم گرائے گئے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ہرایک بم ایک ٹن وزنی تھا۔

غزہ میں وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری اور بے گناہ شہریوں کی اموات کو فلسطینیوں کی "نسل کشی" قرار دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس حملے میں حماس کے جبالیہ بریگیڈ کے کمانڈر ابراہیم بیاری کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ جبالیہ میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کی گئی۔

حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا، جس کے دوران اس نے دیوار فاصل کی باڑ کے ذریعے اسرائیلی علاقوں میں دراندازی کی اور سرحدی قصبوں اور رہائشی برادریوں پر حملہ کیا، جس میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس دوران حماس نے 240 اسرائیلیوں اور غیرملکیوں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا۔

اسرائیل نے حماس کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے مسلسل بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔ غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک 8,525 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں 3,542 بچے اور 2,187 خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں