غزہ: واحد کینسر ہسپتال بھی بند ہو گیا , بند ہونے والے ہسپتالوں کی تعداد 16 ہو گئی

ادویات ، طبی سامان ، بجلی اور ایندھن کی عدم دستیابی آڑے آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں چوتھے ہفتے سے بد ترین اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے بعد غزہ کے واحد کینسر ہسپتال میں علاج معالجے کی خدمات کی فراہمی ممکن نہیں رہی اور ہسپتال عملاً بند کر دیا گیا ہے۔ غزہ میں کینسر کے 2000 مریض ہیں ، جبکہ 70 کا ہسپتال میں علاج جاری تھا

ہسپتال کے انتظامی ذرائع کے مطابق اس بندش کی وجہ غزہ کے مسلسل اسرائیلی محاصرے اور بد ترین بمباری کی وجہ سے ادویات اور دوسرے طبی سامان و آلات کے علاوہ ایندھن کی عدم دستیابی کا تسلسل بنا ہے۔

اس سلسلے میں ترک فلسطین دوستی ہسپتال کے ڈائریکٹر کے حوالے سے ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل الجزیرہ نے بتایا ہے کہ ہسپتال میں زیادہ تر کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا لیکن ایندھن اور بجلی کی فراہم مکمل طور پر معطل ہو جانے کے بعد ہسپتال کو چلانا ممکن نہیں رہا اس لیے سب سروسز بند کر دی گئی ہیں۔

ہسپتال کے ڈائریکٹر صبحی شکائیک نے کہا 'ہم عالمی برادری کو بتانا چاہتے ہیں کہ کینسر کے مریضوں کو اس طرح یقینی موت کے لیے نہ چھوڑ دیں۔'

فلسطینی وزیر صحت نے بھی کینسر ہسپتال کی مکمل بندش کی تصدیق کی ہے، ان کا کہنا تھا غزہ کے 35 ہسپتالون میں سے اس وقت 16 ہسپتال بند ہو چکے ہیں۔ صرف اس کینسر ہسپتال کی بندش کی وجہ سے 70 مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

واضح رہے غزہ میں کینسر کے مریضوں کی تعداد 2000 کے قریب ہے۔ یہ سب اب غزہ کی تباہی کے بعد علاج سے مکمل محروم ہو گئے ہیں۔ ادھر اسرائیل نے غزہ پر حملے شدید کر دیے ہیں اور امریکہ نے فوری جنگ بندی کی حمایت نہ کرنے کا اپنا موقف برقرار رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں