غزہ ہسپتال کی دیوار کے ساتھ لاشوں کی قطار، سرجنز راہداریوں میں آپریشن کرنے لگے

ادویات کی کمی، بجلی کی کٹوتی اور مسلسل حملوں سے قیامت کا منظر، مریضوں کا سیلاب، سرجن دن رات مصروفِ عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غزہ کی پٹی کے انڈونیشین ہسپتال کے سامنے منگل کے روز درجنوں میتیں سفید کفن میں لپٹی ہوئی رکھی ہیں جس کے بارے میں حماس کے زیرِ انتظام انکلیو میں صحت کے حکام نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا، اسرائیلی بمباری سے بری طرح زخمی ہونے والے مریضوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہسپتال پہلے ہی جدوجہد کر رہا تھا تو طبی ماہرین نے راہداری میں ہی ایک آپریٹنگ روم قائم کر دیا کیونکہ مرکزی سرجیکل تھیٹر بھرے ہوئے تھے۔

ادویات کی گرتی ہوئی فراہمی، بجلی کا تعطل اور ہوائی یا توپخانے کے حملوں نے ہسپتال کی عمارات کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور غزہ میں سرجن مریضوں کے ایک امڈتے ہوئے سیلاب کو بچانے کے لیے رات دن کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد الرن نے کہا۔ "ہم بیک وقت ایک گھنٹہ لیتے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ مریض کب ملیں گے۔ کئی بار ہمیں راہداریوں حتیٰ کہ بعض اوقات ہسپتال کی انتظار گاہوں میں آپریشن کی جگہیں بنانی پڑی ہیں۔"

وہ پرہجوم فلسطینی علاقے میں اسرائیلی فوج کے اگلے مورچوں کے قریب واقع انڈونیشیا کے ہسپتال کو بمباری سے نقصان پہنچا جس کے فوراً بعد وہ گفتگو کر رہے تھے۔ اور ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ جنریٹروں کے لیے ایندھن کی فراہمی ختم ہونے والی ہے۔

7 اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے میں جنوبی اسرائیل میں 1,400 افراد ہلاک ہوئے اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس کے جواب میں پورے اضلاع پر تین ہفتوں کی شدید بمباری کے بعد اسرائیلی ٹینک غزہ میں داخل ہو گئے ہیں جہاں 2.3 ملین افراد آباد ہیں۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے میں صحت کے حکام کہتے ہیں کہ اسرائیل کے حملے میں 8500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 3500 بچے بھی شامل ہیں۔

شمالی غزہ میں ہسپتال کے حالات خاصے سخت ہیں جہاں اسرائیل نے دس لاکھ لوگوں کو گھر بار چھوڑنے اور انکلیو کے جنوبی نصف حصے کی طرف جانے کا حکم دیا ہے جبکہ وہ وہاں بھی بمباری کر رہا ہے۔

صحت کے حکام نے بتایا کہ غزہ کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ جبالیہ میں منگل کو ہونے والے دھماکے میں 50 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

رائٹرز کو حاصل کردہ اس واقعے کے نتیجے پر مبنی ویڈیو فوٹیج میں کئی لوگوں کو دکھایا گیا ہے جو ایک بڑے گڑھے کے کنارے کھڑے ریسکیو کی کوششیں دیکھ رہے ہیں۔ یہ گڑھا کیمپ میں ملبے کا ایک چاند نما منظر پیش کرتا ہے۔

ہسپتال کے اندر خون میں لت پت مریض اسٹریچرز اور ٹرالیوں پر پڑے تھے اور ڈاکٹر صوائب ادیس نے کہا، "ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کریں۔ ہر طرف زخمی ہیں۔"

ٹرکش فرینڈشب ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ رات بھر ہونے والی بمباری سے کینسر کے مریضوں کا علاج کرنے والے ایک وارڈ کو نقصان پہنچا۔

یہ ہسپتال جو علاقے میں کینسر کے علاج کی واحد سہولت ہے، کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سوبی سکیک نے کہا، "بمباری نے بہت نقصان پہنچایا اور کچھ الیکٹرو مکینیکل سسٹم کو خراب کر دیا۔ اس سے مریضوں اور طبی ٹیموں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔"

بجلی کا تعطل

اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر دی ہے، بجلی کاٹ دی ہے اور یہ کہہ کر ایندھن کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے کہ حماس اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ ہسپتالوں نے متنبہ کیا ہے کہ جلد ہی جنریٹرز بند ہو سکتے ہیں جو زندگی بچانے کے کاموں کو برقرار رکھنے کے لیے درکار ہیں۔

سرجن معین المصری نے کہا، "محدود ایندھن کی وجہ سے چند گھنٹوں میں بجلی منقطع ہو جائے گی۔" اور مزید کہا کہ یہ انتہائی نگہداشت اور سرجیکل وارڈ میں مریضوں کی موت کا باعث ہو گا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے کہا کہ انڈونیشین ہسپتال اور غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال دونوں کے بڑے جنریٹر بدھ کو رات تک بند ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کے فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا کہ حماس اپنی کارروائیوں کے لیے ایندھن جمع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا۔ "ہسپتالوں اور پانی کے پمپ چلانے کے لیے ایندھن بہت دنوں کے لیے کافی ہے۔"

گذشتہ ہفتے انڈونیشیا کے ہسپتال میں ایندھن تقریباً ختم ہو گیا تھا اور اسے زیادہ تر حصوں میں بجلی کاٹنا پڑی۔ مصری نے کہا کہ غزہ کی تیزی سے محدود ہوتی ہوئی فراہمی کا کچھ حصہ مل جانے کے بعد یہ دوبارہ کام کر رہا ہے لیکن مکمل بندش کے قریب ہے۔

مصری نے کہا کہ جبالیہ دھماکے سے قبل منگل کی صبح انڈونیشین ہسپتال میں تقریباً 250 مریض تھے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ شمالی غزہ میں فرنٹ لائنز کے قریب ہے اس لیے ہسپتال نے اسرائیل کی بمباری اور پیش قدمی کی وجہ سے پھنسے ہوئے بہت سے لوگ لیے ہیں۔

جمعہ کے روز جب سے اسرائیل نے غزہ میں اپنی زمینی کارروائیوں میں توسیع کی ہے بیت لاہیا اور بیت حانون کے شمالی اضلاع خاص طور پر شدید فائرنگ کی زد میں ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو حاصل شدہ فوٹیج میں فلسطینیوں کو بیت حانون سے گدھا گاڑی پر منگل کے روز لاشوں کو ہسپتال لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں