فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیر خزانہ فلسطین اتھارٹی کو محصولات کی آمدن سے ادائیگی کے مخالف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شدت پسند اسرائیلی وزیر خزانہ نے فلسطین اتھارٹی کو مغربی کنارے سے اکٹھے کیئے گئے محصولات کی آمدن میں سے ادائیگی کی مخالفت کردی۔

برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرزکی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عبوری امن معاہدوں کے تحت، اسرائیل کی وزارت خزانہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے سے ٹیکس جمع کر کے یہاں قائم فلسطینی حکومت کو ماہانہ بنیادوں پرفنڈز منتقل کرتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی مقبوضہ مغربی کنارے میں محدود طرز کی حکمرانی ہے۔ یہ مالی انتظامات دونوں فریقوں کے درمیان تنازعہ کا شکار رہے ہیں۔

تاہم مالی محصولات کی ادائیگی کے اس تنازعہ نے اس وقت شدت اختیار کر لی جب اسرائیل کے جنونی شدت پسند وزیر خزانہ بیزالل سموٹریچ نے مقبوضہ علاقوں سے جمع کئے گئے فنڈز کا فلسطینی اتھارٹی کو جاری کیا جانا ایک سنگین غلطی قرار دے دیا۔ سموٹریچ کا تعلق اسرائیلی حکومت میں شامل ایک سخت گیر یہودی مذہبی جنونی اور قوم پرست جماعت سے ہے جسے مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر مسلط یہودی آباد کاروں کی حمایت حاصل ہے۔

سموٹریچ شروع سے ہی فلسطینی حکومت کو فنڈز کی ادائیگی کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو پبلک سیکٹر کی تنخواہوں اور دیگر سرکاری اخراجات کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ وہ مغربی کنارے کے باسی فلسطینیوں پر سات اکتوبر کو کئے جانے والے حماس کے مہلک حملے کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا وہ اسرائیل کی ریاست کو یہودیہ اور سامریہ کے علاقوں، یعنی مغربی کنارے میں بسنے والے بقول ان کے دشمنوں کی مالی معاونت کرنے کا موقع نہیں دیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ فلسطینی حماس کے 7/10 کو ہونے والے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے ہیں جنہوں نے بقول ان کے اسرائیلیوں کا قتل عام کیا۔

اس حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلانٹ نے فلسطینی حکومت کو ٹیکس کی آمدنی بلا تاخیر ادا کرنے پر زور دیتے ہیں۔ گزشتہ روز محصولات کی فلسطینی حکومت کو ادائیگی کے معاملے پر اسرائیل کے وزرائے دفاع اور خزانہ کے درمیان اس بات پر جھڑپ ہوئی کہ آیا مغربی کنارے کے ٹیکس کی آمدنی میں سے حصہ کے طور پرفلسطینی اتھارٹی کو رقم منتقل کی جانی چاہیے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی ریاست تناؤ کے شکار یہودیہ اور سامریہ کے علاقوں میں استحکام برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے بالخصوص موجودہ جنگی تنازع کے دوران۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کو فوری طور پر منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ یہ فلسطینی اتھارٹی کے آپریشنل میکانزم کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جا سکیں جو بقول ان کے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں