فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ، 20000 سے زائد زخمی بغیر علاج کے تڑپ تڑپ کر جینے اور مرنے پر مجبور

صرف غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے گنتی کے زخمیوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت مل سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں بیس ہزار سے زائد زخمی فلسطینی شہری علاج کے بغیر تڑپ تڑپ کے جینے پر مجبور ہیں۔ یہ صورت حال ایک طرف اسرائیل کی متواتر بمباری اور مسلسل محاصرے کی وجہ سے ہے کہ زخمیوں کو ادویات اور طبی سہولتیں تو کیا پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں ہے۔

اس کی وجہ اسرائیل کا زخمیوں کو کسی بھی قیمت پر ہسپتالوں تک رسائی دینے کے خلاف حکمت عملی ہے۔ اسی طرح وہ غزہ سے باہر رفح کے راستے مصر یا کسی اور ملک میں علاج کے لیے بھی زخمیوں کو جانے کی اجازت دینے کو اسرائیل بالکل تیار نہیں ہے۔

اسرائیلی بمباری کا تقریبا ایک ماہ ہونے جا رہا ہے اور سرحدوں سے ماورا ڈاکٹروں کی تنظیم نے ان بیس ہزار سے زائد زخمی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ان زخمیوں میں بچے، عورتیں اور بوڑھے لوگ بھی بڑی تعداد میں ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک غزہ کے 35 ہسپتالوں میں سے 16 ہسپتال مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں اور کئی پانی و بجلی اور ایندھن کے علاوہ ادویات اور طبی آلات کی کامل عدم دستیابی کا بھی شکار ہیں۔

ابھی دو روز پہلے ہی غزہ کا واحد کینسر ہسپتال بھی ہسپتال انتظامیہ کو مکمل طور پر بند کرنا پڑ گیا ہے، کہ مریضوں کے علاج کو جاری رکھنا کینسر ہسپتال کی انتظامیہ کے لیے ممکن نہ رہا تھا۔

دوسری جانب بیس لاکھ کے قریب فلسطینی اب بھی غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں اور مسلسل ہونے والی بمباری کے باعث صرف موت کی طرف نکل سکتے ہیں کہیں اور نہیں نکل سکتے۔

11 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں ایک فلسطینی لڑکا جو ایک گھر پر اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوا تھا ایمبولینس میں بیٹھا ہے۔ (رائٹرز)
11 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں ایک فلسطینی لڑکا جو ایک گھر پر اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوا تھا ایمبولینس میں بیٹھا ہے۔ (رائٹرز)

البتہ غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے 320 زخمیوں کو غزہ سے باہر مصر کی طرف جانے کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ ان کا علاج ممکن ہو سکے۔ ان کے علاوہ 22 ایم ایس ایف انٹرنیشنل سٹاف کو رفح راہداری کے راستے مصر کی طرف منتقل ہونے کی سہولت دی ہے۔

اب غزہ میں داخل ہونے کے لیے بین الاقوامی سپیشلائزڈ ٹیم تیار کھڑی ہے تاہم اسے اسرائیل کی جانب سے بمباری میں کسی وقفے اور طبی سٹاف کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ضروری ہے۔

اسی طرح غزہ میں پہلے سے موجود طبی سٹاف بھی زخمیوں کی مدد اور علاج معالجے کے تیار ہے تاہم اس طبی عملے اور اس کے متعلقہ ہسپتالوں کو بمباری سے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق سہولیات دی جائیں۔ نیز ادویات سمیت دیگر لوازمات پانی اور بجلی بھی فراہم کیا جائے۔

یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسرائیل نے بمباری کر کے اب تک کئی ہسپتالوں کو تباہ کر دیا ، جس کے نتیجے میں ہسپتال ہی ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ ہسپتالوں میں علاج کے لیے داخل زخمی اور طبی عملے کے ارکان بڑی تعداد میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں