فلسطین اسرائیل تنازع

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں نے تشدد کی آگ تیز کر دی

خود کار اسلحے سے آباد کاروں کی تین شہدا کے جنازے پر فائرنگ ،دو فلسطینی مزید شہید کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی بد ترین اور اسرائیلی بمباری کے باعث تباہ کن صورت حال کے ساتھ ہی ساتھ مغربی کنارے میں بھی پر تشدد واقعات بھڑک رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں تشدد بھڑکانے میں یہودی آباد کاروں اور انہیں اسرائیل کی طرف سے فراہم کیا گیا خود کار اسلحہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

محمد وادی یہودی آبادکاروں کے پھیلائے ہوئے تشدد کی نذر ہو کر ہلاک ہونےوالے اپنے والد اور بھائی کے حوالے سے غمزدہ فلسطینی محمد وادی نے کہا ' ہمارے زیتون اگانے والے دیہات کو پرواہ نہ کرنے والی یہودی 'آؤٹ پوسٹوں' سے مسلح یہودی آباد کر اپنے پڑوسی فلسطینیوں پر گولی چلاتے ہیں تو ان گولی چلانے والوں کا مقصد محض ڈرانا اور علاقے سے بھگانا نہیں ہوتا بلکہ فلسطینیوں کو قتل کرنا ہوتا ہے۔ '

مغربی کنارے میں اس ماحول میں تشدد کے واقعات پچھلے 15 برس سے زیادہ دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اب غزہ میں جاری جنگ کے اثرات مغربی کنارے پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں اور یہودی آباد کار یہاں فلسطینیوں کو زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں۔

چند روز پہلے ہی محمد وادی کے والد اور بھائی کو یہودی آباد کاروں نے اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا تھا جب وہ تین شہید فلسطینیوں کے جنازے کو بزور روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ ان 170 واقعات سے سنگین تر واقعہ تھا جن کو اقوام متحدہ نے مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف سات اکتوبر کے بعد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محمد وادی کا کہنا تھا ' عربوں اور یہودیوں کے درمیان عام طور پر پتھروں کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ لیکن اب میری عمر کے آباد کار بھی خود کار اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ جیسا کہ 29 اکتوبر کو قصرہ نامی گاؤں میں زیتون کے کھیتوں میں کیا گیا۔ '

واضح رہے قصرہ نامی گاؤں میں یہودی آباد کاروں نے ایک چالیس سالہ فلسطینی کو شہید کیا ہے۔ محمد وادی کے مطابق دس پہلے یہودی آباد کار صرف زخمی کرنے کے لیے فائرنگ کرتے تھے مگر اب ان کا مقصد زخمی کرنا نہیں فلسطینیوں کو قتل کرنا ہوتا ہے۔

فلسطینی تحقیقات کرنے والے حکام کے مطابق جنازے پر فائرنگ کا واقعہ یہودی آباد کاروں کی طرف سے سامنے آنے پر ہوا ، یہ اسرائیلی اہلکاروں کی طرف سے نہیں تھا۔

تاہم یہودی آباد کاروں کی تنظیم ییشا کی ذمہ دار لیب مین نے یہودی آباد کاروں کے فائرنگ کرنے کی تردید اور کہا ان افراد کو یہودی آباد کاروں نے قتل نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے وزیر ایتمار بین گویر سمیت کم از کم دو وزیر یہودی بستیوں میں رہتے ہیں۔ نے یہودی آباد کاروں کو مسلح کرنے کے لیے 10000 بندوقیں خریدنے کا حکم دے رکھا ہے۔

تاہم بین گویر کے دفتر نے اس بارے میں پوچھنے پر جواب نہیں دیا ہے۔ یہ بندوقیں پہلے ہی یہودی آباد کاروں میں تقسیم کی جا چکی ہیں یا ابھی نہیں؟

البتہ اپنے ایک ٹویٹ میں بین گویر نے گیارہ اکتوبر کو بتایا تھا کہ 900 بندوقیں لبنانی سرحد کے ساتھ یہودی آباد کاروں میں تقسیم کی جا چکی ہیں اور 1000 مزید تقسیم کی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں