اسرائیل کی طرف سے فلسطینی مزدوروں کو غزہ منتقل کرنے پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

کیا اسرائیلی مزدوروں کو زمینی حملوں میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے اسرائیل میں موجود ہزاروں فلسطینی مزدوروں کو جمعہ کے روز سے جبراً غزہ بھجوانے کی کوشش پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ مزدور پچھلے دنوں سے جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں پھنس کر رہ گئے تھے۔

لیکن اب اسرائیل اور حماس جنگ کے چوتھے ہفتے کے اختتام سے پہلے اسرائیل نے مسلسل بمباری اور ٹینکوں کے حملوں کی زد میں تباہ حال غزہ میں ان مزدوروں کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے لیے ترجمان الزبتھ تھروسیل نے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا اب ان مزدورں میں سے بہت سوں کے گھر اسرائیلی بمباری کی وجہ ملبے کا ڈھیر بن چکے ہونے کا خدشہ ہے اور اور بہت سوں کے اہل خانہ اور دوسرے پیاروں کے ہلاک ہو چکے ہونے کا اندیشہ ہے۔

ترجمان نے کہا ' ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فلسطینی مزدور اور ہسپتالوں میں مریض کے طور پر اسرائیل میں تھے لیکن سات اکتوبر سے انہیں اسرائیل نے ایک طرح سے قید میں رکھا ہوا تھا۔ '

واضح رہے کہ اسرائیل کی طرف سے 18500 فلسطینیوں کو اسرائیلی کارخانوں اوردودسری جگہوں پر مزدوری کے لیے ' ورک پرمٹ' جاری کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ فلسطینی مزدور اسرائیلی کارخانوں وغیرہ کے لیے سستے مزدور کے طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔

لیکن اب جبکہ اسرائیل خود غزہ پر روزانہ بارود کی بارش کر رہا ہے اورلاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 9 ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں ان مزدوروں کو زبردستی غزہ میں دھکیلنا ان کی زندگیوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے۔

یہ بھی اندیشہ ہے کہ اسرائیل ان ہزاروں مزدوروں کو انسانی ڈھال کے طور پر غزہ میں اپنے زمینی حملوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں