حزب اللہ فلسطینی معرکے طوفان الاقصیٰ میں دوسرے دن سے شامل ہے: حسن نصر اللہ

اس آپریشن کا کسی علاقائی ایجنڈے سے کوئی تعلق نہیں، لبنان پر حملہ اسرائیل کی بہت بڑی حماقت ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصیٰ کو انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے حق کی جنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر کوئی شبہ نہیں ہے۔

جمعہ کو بیروت میں خطاب کرتے ہوئے حسن نصراللہ نے کہا کہ سات اکتوبر کے واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا، حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا بہت ضروری ہے، طوفان الاقصیٰ کی جنگ وسیع تر ہو کر مختلف محاذوں اور میدانوں تک پہنچ گئی ہے۔حزب اللہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصیٰ انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے حق کی جنگ ہے۔

آپریشن سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حزب اللہ کو سات اکتوبرکے آپریشن سے متعلق کوئی پیش گی اطلاع نہیں تھی۔سات اکتوبر کے آپریشن کو انتہائی راز داری سے انجام دیا گیا۔ صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر کوئی شبہ نہیں ہے۔

طوفان الاقصٰی علاقائی ایجنڈا نہیں فلسطینیوں کی جنگ

سات اکتوبر کے واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا، حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا ضروری ہے، طوفان الاقصٰی آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے اور اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی، فلسطینی شہیدوں کے اہلخانہ کو رتبہ شہادت حاصل کرنے پر مبارک باد، تعزیت پیش کرتے ہیں۔ شہدا کا رتبہ منفرد رتبہ ہوتا ہے، صرف مسلمان ہی اس رتبے کو سمجھ سکتا ہے۔

شہداء کو خراج عقیدت

حسن نصراللہ نے غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کےخلاف لڑتے ہوئے شہید ہونے والوں کی قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں اسرائیلی بمباری اور حملوں میں ہزاروں شہری شہید ہوئےہیں اسرائیل کے خلاف جنگ کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں شہدا کبھی مرتے نہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ہمیں شہدا کے اہلخانہ کے عزم اور ہمت پر فخر ہے۔

حسن نصراللہ نے کہا کہ فلسطینی ماؤں اور بہنوں کی آواز پر ہر قربانی کےلیے تیار ہیں شہادت ہماری طاقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے۔

اسرائیلی مظالم سے اغماص

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف یہ جنگ کیوں شروع ہوئی اس کی اصل وجہ دُنیا جانتی ہے کہ فلسطینی عوام پر اسرائیل کے مظالم گزشہ کئی دہائیوں سے جاری ہیں اسرائیل کی بےوقوف حکومت کے خلاف دُنیا خاموش ہے، دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طورپرآنکھیں بند کرلی ہیں تاہم فلسطینیوں کےحق میں دنیا بھر میں مظاہروں کو سراہتےہیں۔

طوفان الاقصیٰ: دوست دشمن میں حد فاصل

حزب اللہ سربراہ کا کہنا تھا کہ حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کے لیےتھا آپریشن سے پتا چل گیا کون دوست اور کون دشمن ہے۔ طوفان الاقصیٰ کا شاندار آپریشن بروقت، بہترین اورٹیکنیکل تھا اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس صرف دو راستے جنگ یا خاموشی تھا ایک راستہ تھا کہ فلسطینی عوام خاموش رہ کر ظلم برداشت کرتے رہتے اور دوسرا راستہ اپنے حقوق کےلیے لڑنا تھا جس کے لیے انہوں نے اسرائیلی مظالم سے تنگ آ کر دوسرا راستہ اختیار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں