عسکری گروپ اسرائیل کے خلاف کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی تنظیمیں اور خطے کے مختلف گروپ اسرائیل کے خلاف کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ایک فون کال میں اشارہ کیا کہ اسرائیل اور امریکا غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتائج کے ذمہ دار ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ لبنانی سرحد پراسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے اس بات پر زور دیا کہ ایران غزہ میں لڑائی سے اسرائیلی افواج کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوج اسرائیل کی شمالی سرحد پر ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی خطرے کا جواب دے گی۔

جمعے کے روز حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد پہلی تقریر کی ہے۔ اس خطاب کا لبنانی تنازع سے تعلق رکھنے والے افراد انتظار کر رہے تھے۔اس سے یہ واضح ہوگا کہ آیا حزب اللہ غزہ کی جنگ میں شامل ہوگی یا نہیں۔

اسرائیل کی سرزمین پر حماس کے غیر مسبوق حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے پہلے دن سے ہی فلسطینی حزب اللہ نے اعلان کیا کہ وہ حماس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس نے جنوبی لبنان سے اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس کے جواب میں لبنان کے سرحدی شہروں اور دیہاتوں پر بمباری کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے اسرائیل کی طرف گولہ باری کے جواب میں ایک عمارت کو تباہ کرنے کے علاوہ لبنان میں حزب اللہ کے ایک کمپاؤنڈ کے اندر "دہشت گردوں کے سیل" کو ختم کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی ٹینک نے حزب اللہ کے ایک سیل پر حملہ کیا جس نے جبل روس کے علاقے کی طرف اینٹی آرمر شیل فائر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس حملے میں دو اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں