غزہ میں فلسطینیوں کے قتل میں امریکہ شراکت دار ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سفید فاسفورس جیسے ممنوعہ ہتھیاراستعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں غزہ یں تین قتل عام کیے جس میں تقریباً ایک ہزار افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ اور ہر وہ شخص جو دشمن کی حمایت کرتا ہے اس کے قتل عام میں شراکت دار ہے۔

اسامہ حمدان نے کہا جاری اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ میں صحت کے شعبے پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ غزہ میں صحت کی صورتحال تباہ کن ہے۔ واں ابھی تک ضروری سامان تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ غزہ کی امداد کے لیے کم از کم روزانہ 300 امدادی ٹرکوں کے داخلے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل جھوٹ بول رہا ہے کہ حماس کے مزاحمتی کارکنوں نے ہسپتالوں میں اپنے لیے مقامات مختص کر رکھے ہیں۔

اسامہ حمدان نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے متعلق کسی بھی فیصلے کا تعین فلسطینی عوام کو انتخابات کے ذریعے کرنا چاہیے۔ ہم جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل کے متعلق بات کرنے والے کسی بھی بیان کو قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا موجودہ جنگ آسانی سے نہیں گزرے گی۔ انہوں نے رفح راہداری کو داخلے کے لیے کھولنے میں مصر کے کردار کی تعریف کی تعریف کی اور کہا کہ طبی بحری جہاز غزہ کے ساحلوں پر بھیجے جائیں نہ کہ دیگر ملکوں کے ساحل پر۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی کی جانب سے تحریک کی سرگرمیوں پر عائد پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے جرائم میں شریک ہے۔

حماس نے کہا کہ ایک غزہ پر نئی حقیقت مسلط کرنے کے لیے مداخلت کی کوششیں یکسر مسترد کی جاتی ہیں۔ فلسطینی عوام ایسی کوششوں کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں