غزہ: 50 ہزار حاملہ خواتین اور 50 ہزار نئے مہمانوں کی زندگیاں بھی خطرے میں

اسرائیلی محاصرہ جاری، نتن یاہو کا جنگ بندی نہ کرنے کا قاتل اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایک ماہ کے قریب مسلسل بمباری کے نتیجے میں موت اور ملبے کے درمیان معلق زندگی گذارنے والوں میں غزہ کے لاکھوں فلسطینی ہیں۔ لیکن ان میں عنقریب یا اگلے مہینوں میں ماں بننے والی اور ایک نئی زندگی کو جنم دینے والے فلسطینی خواتین کے مسائل سب سے جدا ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 24 لاکھ کی غزہ کی ا س آبادی میں 50 ہزار خواتین حاملہ ہیں، ان میں جو زندہ بچ پائیں یا ان کے بچے پیدائش سے قبل ہی اسرائیلی بمباری یا محاصرے کی وجہ سے موت سے ہم آغوش نہ ہو گئے تو یہ 50 ہزار خواتین اگلے دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں ماں بنے والی ہیں۔ ان میں 5500 حاملہ خواتین کے ماں بننے کا وقت مقابلتاً قریب ہے ( بشرط زندگی)، گویا اگلے دو سے تین یا چار ماہ میں یہ 5500 خواتین ماں بننے کے وقت کو پہنچ سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی اس رپورٹ کے مطابق ایک معاملہ ان سب سے زیادہ قربت کا اور فوری توجہ کا ہے کہ غزہ میں یومیہ 160 بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔

الاھلی ہسپتال کا ایک منظر۔ [اے پی]
الاھلی ہسپتال کا ایک منظر۔ [اے پی]

بلاشہ ان سب حاملہ خواتین کو اگر معمول کی زندگی میسر ہوتی تو ان کی خوراک، آرام اور سہولت کے اسباب کی ہر گھرانے میں اپنی توفیق کے مطابق خیال رکھا جاتا ہے۔ خصوصی ضرورت کی خوراک ، وقتاً فوقتاً میڈیکل چیک اپ کا اہتمام، ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق ادویات اور 'وٹامنز' یا اس طرح کے دیگر سپلیمنٹس' کا اہتمام ہوتا۔

یہ پچاس ہزار خواتین تواس وقت ایک لاکھ زندگیوں کی نمائندہ ہیں، مگر زندگی کی دوہری گنتی میں شامل ہونے کے باعث عام اہل غزہ سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ ان کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے آنے والے ننھے مہمانوں کو جہاں مناسب خوراک، علاج اور ادویات کے بغیر عمومی حالات میں خطرات درپیش ہو سکتے تھے ۔ وہیں اب اسرائیلی بمباری اور زیر محاصرہ غزہ میں انہیں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہی۔ [اے ایف پی]
جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہی۔ [اے ایف پی]

لیکن ان کے پاس مناسب خوراک کیا خوراک تک میسر نہیں، لباس اور رہائش کے مسائل ہیں۔ پینے کو پانی نہیں، ڈاکٹر نہیں، ہسپتال نہیں، ادویات نہیں، آرام کی جگہ نہیں، محفوظ جگہ نہیں۔ یہ جنگل نہیں ، بلکہ جنگل سے زیادہ خوفناکی میں گھرے ہوئے غزہ خواتین ہیں۔

ان میں سے بہت سی خواتین اسرائیل کی مسلسل بمباری کی وجہ سے اپنے گھروں کی چھت سے محروم ہو کر بے گھر ہو چکی ہیں۔ گھروں کا ملبہ اب ان کی رنگ برنگی بلکہ لہو رنگ زمین ہے۔ اس ملبے کے نیچے کہیں لاشے ہیں، کہیں زندگی کی رک رک کر چلنے والی آخری سانسیں اور کہیں کہیں شہید ہو چکے فلسطینی بچوں اور بڑوں کے جسموں کے لوتھڑے دبے ہوئے ہیں۔

غزہ کے ایک ہسپتال میں انکیوبیٹر میں موجود نوزائیدہ فلسطینی بچہ۔ رائیٹرز
غزہ کے ایک ہسپتال میں انکیوبیٹر میں موجود نوزائیدہ فلسطینی بچہ۔ رائیٹرز

کہیں بکھرے لہو کے نشان اور چاروں طرف اسرائیلی دہشت گردی کی کہانی اور ان کے عالمی سرپوستوں کی بے حسی اور درندگی کا حوالہ ہے۔ اس سب کچھ نے نئی زندگی کے جنم لینے کی خوشی اور مسرت کو بھی خوفناکی و خطرناکی میں تبدیل کر دیا ہے۔

ستم کی بات یہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کا واویلا کر کے دوسرے ملکوں پر پابندیاں لگانے اور انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے والے سارے ملک اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں بہت سارے ملکوں کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

'انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کریسنٹ ' کے غزہ کے لیے ترجمان ہاشم مہنا نے غزہ کی حاملہ خواتین کے ان حالات کے باعث کرب کا ذکر کیا تو بتایا کہ ان کی اپنی حاملہ اہلیہ بھی اسی غزہ کی باسی ہونے کے باعث ہزاروں دوسری خواتین کی طرح غیر معمولی خوف زدگی کے ساتھ رہ بس رہی ہیں۔ ہاشم مہنا نے اپنا اور دوسروں کا مشترکہ دکھ اس طرح بیان کیا ' میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کے حالات میں کسی نئے بچے کا جنم ہونا چاہیے۔'

ہاشم مہنا کا یہ کہنا اس لیے ہے کہ 'غزہ کے آدھے ہسپتال بند ہو چکے ہیں، ان میں سے کئی بمباری کر کے اسرائیل نے تباہ کر دیے اور کئی پانی سے لے کر ادویات اور طبی آلات کی ہر ضرورت سے اس لیے محروم ہو گئے کہ اسرائیل نے غزہ کا مسلسل محاصرہ کر رکھا ہے۔ یہی نہیں 72 میں سے 46 پرائمری ہیلتھ کلینک بھی بند ہو چکے ہیں۔'

باقی بچی ادویات اور دوسرے وسائل سے چلنے والے طبی مراکز نے اپنے ہاں سے زچہ بچہ کے لیے مختص کمروں کو ایمرجنسی اور آپریشنز رومز میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہسپتال بجائے خود ہمہ وقت اسرائیلی بمباری کے خطرے کی زد میں ہیں۔

ہاشم مہنا کے بقول 'حاملہ خواتین کو اس مرحلے پر زیادہ سکون، آرام، سہولت، دوائی اور ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہاں تو زندگی کے لیے موت ہے، ارد گرد ملبہ ہے، تباہی ہے۔ گھر گھر ایک نکبہ بپا ہے۔ '

بار بار بم پھٹتے ہیں۔ شعلے بھڑکتے ہیں۔ گھر ملبے کا ڈھیر بنتے ہیں اور آس پاس کے زندہ لوگ موت کے منہ میں جاتے ہیں۔

ادھر امریکہ اور اس کے پکے اتحادی اسرائیل کے ساتھ یک جان اور یک آواز ہیں کہ جنگ بندی نہیں کرنی ہے۔ ایسے میں 50 ہزار فلسطینی خواتین کو نئی زندگیوں کو جنم دینا ہے۔

لگتا ہے یہ مائیں عام ماوں سے زیادہ اہم، قابل احترام اور قیمتی ہیں کہ جو نئے بچوں کی ولادت سے غزہ کے مرنے والوں کو یقین دلا رہی ہیں کہ ان کی اولادیں فلسطین کی آزادی کے لیے امید اور جہد کا استعارہ بنتی رہیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں