فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج کا غزہ کے ہسپتال کے باہر ایمبولینسز پر بمباری کا اعتراف

کئی فلسطینی شہید، عالمی ادارہ صحت کی طرف سے صدمے کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے غزہ میں سکولوں اور ہسپتالوں کے بعد بمباری کے نتیجے میں زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینسز کو بھی نشانہ بنایا شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل نے زخمیوں سمیت ایمبولینسز پر بمباری کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

جمعہ کے روز ایمبولینسوں پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کے شہید ہونے کی تصدیق تو گئی ہے لیکن متعین تعداد نہیں بتا گئی۔ البتہ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والی ایمبولینسز کے نزدیک بے حس وحرکت فلسطینی لاشے ضرور دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاہم اسرائیل نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایمبولینسز حماس کے زخمیوں کو لا رہی تھیں اور ان میں اسلحہ بھی دوسری جگہوں پر منتقل کیا جا رہا تھا۔ دوسری جانب غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ ایمبولینس پر حملے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں زخمی شہید ہو گئے ہیں۔

قدرہ کے مطابق اسرائیل نے ایمبولیسوں کے ایک قافلے کا نشانہ بنایا۔ ان ایمبلینسوں پر بمباری غزہ کے سب سے بڑے 'الشفا ہسپتال' کے باہر والے گیٹ کے قریب سے شروع کی گئی اور راستے میں بھی کئی جگہوں پر بمباری کی گئی۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ ایمبولینس جنگی علاقے میں تھی اور حماس کے دہشت گردوں کے استعمال میں تھی۔' اسرائیل ترجمان نے یہ بھی کہا ہے 'اس حملے میں حماس کے کئی جنگجو مار دیے گئے ہیں۔ ان کےساتھ اسلحہ بھی منتقل کیا جا رہا تھا۔' تاہم اسرائیلی فوجی ترجمان نے اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں دیا ہے کہ ایمبولینسز حماس کے زیر استعمال تھیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ازھانوم گیبرئیس نے ایمبولینسز پر اسرائیلی حملے بعد کہا ’کہ میں ایمبولینسز پر حملے کے واقعے پر سخت صدمے ہوں۔' مریضوں اور طبی عملے کی لازماً حفاظت کی جانی چاہیے۔ '

اس سے قبل جمعہ کی صبح اشرف القدرہ ایمبولینسز زخمیوں کو لے کر رفح کے راستے مصر کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ اسرائیل نے ان پر بھی حملہ کر دیا۔ ان ایمبولینسز کے حملے کے بعد درجنوں لاشے ایمبولینسز کے نزدیکی پڑے دیکھے جا سکتے تھے۔

تاہم یہ کہنا فوری طور پر مشکل تھا کہ ان میں سے کوئی بچ گیا ہے یا سب ہلاک ہو چکے فلسطینی ہیں۔

واضح رہے اس سے قبل اسرائیل غزہ میں کئی ہسپتالوں کو بمباری کا نشانہ بنا کر مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر چکا ہے۔ تقریباً نصف کی تعداد ہسپتال تباہی یا ادویہ اور طبی اشیا کی عدم فراہم کے باعث بند ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے ایک نیا موقف یہ پیش کیا ہے کہ الشفا ہسپتال جس کے گیٹ پر ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ حماس کے کنٹرول میں ہے اس سے سرنگ نکالی گئی ہے۔ تاہم الشفا ہسپتال کی انتظامیہ نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں