غزہ سے یرغمالیوں کو نکالنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے جمعہ کو کہا کہ امریکی حکام غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے زیرِ حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں لیکن کامیابی کی کوئی ضمانت یا مدت مقرر نہیں ہے۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ "بالواسطہ مصروفیت" تھی جس کا مقصد یرغمالیوں کو نکالنے کا راستہ تلاش کرنا تھا لیکن یہ کام انتہائی مشکل تھا۔

فلسطینی غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والی حماس نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں ایک حملے میں 1400 افراد کو ہلاک اور 240 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا۔

کئی یرغمالی تاحال غزہ میں ہی رکھے گئے ہیں جہاں اسرائیلی فوج نے فضائی اور زمینی حملہ کیا ہے اور محاصرہ کر رکھا ہے۔ غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ 9,250 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے "تصادم میں بہت اہم وقفے" کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا، "یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر بہت سنجیدہ اور فعال بحث جاری ہے۔ ابھی تک اسے انجام دینے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے لیکن یہ ایسی چیز ہے جس پر ہم بہت محنت کر رہے ہیں۔"

اہلکار نے مزید کہا، "ہم پر امید ہیں اور یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن اس بات کی قطعاً کوئی ضمانت نہیں ہے ا) کہ یہ ہونے والا ہے یا ب) یہ کب ہو گا۔"

اہلکار نے کہا۔ "ہم تمام قومیتوں کے تمام یرغمالیوں کو غزہ سے باہر لانے کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے جا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں ایک فعال عمل جاری ہے جس میں متعدد کوششوں کے ساتھ ایک فریم ورک تلاش کرنے کے لیے بالواسطہ مشغولیت بھی شامل ہے تاکہ غزہ سے یرغمالیوں کو نکالا جا سکے۔"

اہلکار نے کہا کہ انتظامیہ حماس کے ساتھ غزہ کے چھوٹے سے انکلیو میں پھنسے غیر ملکی شہریوں کو محفوظ راستے سے باہر جانے کی اجازت دینے پر بھی بات چیت کر رہی ہے۔

غیر ملکی شہریوں کو نکالنے میں "اتنا وقت" کیوں لگا، اس کی وضاحت کرتے ہویے عہدیدار نے کہا کہ حماس نے غیر ملکیوں کی رہائی کے لیے یہ شرط رکھی ہے کہ زخمی فلسطینی بھی باہر نکلنے کے قابل ہو جائیں۔"

اہلکار نے کہا۔ "لیکن فراہم کردہ فہرست کی ایک بار جانچ پڑتال کے بعد پتا چلا کہ اس میں شامل زخمی فلسطینیوں میں سے ایک تہائی حماس کے ارکان تھے۔ یہ بات مصر کے لیے، ہمارے اور اسرائیل کے لیے ناقابل قبول تھی۔"

انہوں نے مزید کہا، "اور یوں یہ کچھ عرصے تک ہوتا رہا۔ آخر کار یہ طے پایا کہ زخمی فلسطینی شہری جو غیر ملکی شہریوں کے ساتھ چلے گئے وہ حماس کے جنگجو نہیں تھے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں