’یہ ہمیں جنگ میں تحفظ نہیں دے سکتے‘ فلسطینی صحافی نے جیکٹ اور ہیلمٹ اتار دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی وحشیانہ بمباری میں ساتھی صحافی کے خاندان کے قتل عام کے بعد ایک مقامی صحافی نے بہ طور احتجاج اپنی جیکٹ اور ہیلمٹ اتار کر پھینک دیے۔

اس نےکہا کہ "یہ ہیلمٹ اور جیکٹ مجھے جنگ میں تحفظ نہیں دیتے۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم یہاں براہ راست بمباری کی زد میں ہیں۔ ہمارے کئی ساتھی بمباری میں مارے گئے۔ ہم میں سے ہرایک اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے"۔

فلسطینی صحافی سلمان البشیر کا یہ ردعمل خان یونس میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں فلسطین ٹی وی کے نامہ نگار محمد ابو حطب اور ان کے خاندان کے 11 افراد کی ہلاکت کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔

فلسطینی وزارت اطلاعات نے صحافی ابو حطب اور ان کے خاندان کی شہادت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزارت اطلاعات نے تمام بین الاقوامی صحافتی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے خلاف جرائم کو روکنے کے لیے فوری طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

غزہ میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد سے جنگ اپنے 28 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔اسرائیلی فوج مشرق وسطیٰ میں تنازع کے پھیلاؤ کے بین الاقوامی خدشات کے باوجود غزہ پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے مرنے والوں کی تعداد 9,061 تک پہنچ گئی ہے جن میں 3,760 بچے اور 2,326 خواتین شامل ہیں اور 32,000 زخمی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں