اسرائیلی طرز عمل کی وجہ سے قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی:قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری کشیدگی کے جلو میں قطرنے ایک نیا اعلان جاری کیا ہے۔

قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں

قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے حماس کے زیر حراست قیدیوں کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

پیرس سے اتوارکے روز اپنی فرانسیسی ہم منصب کیتھرین کولونا سے ملاقات میں انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک تمام سویلین قیدیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ سیاق وسباق میں قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ مذاکرات سے لیک ہونے والی افواہیں نقصان دہ ہیں اورثالثوں کے لیے اپنا کام کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔

کراسنگ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک امید کرتا ہے کہ غزہ سے شہریوں کو نکالنے کے لیے جلد ہی رفح کراسنگ دوبارہ کھول دی جائے گی۔

قطر مصرکے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ کراسنگ کھلی رہے۔ قطری اور علاقائی ثالثی کی کوششیں رفح کراسنگ سے ایک مسلسل "انسانی ہمدردی کے چینل" کو کھولنے اور انسانی امداد کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوں گی۔

اس کے علاوہ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر جنگ میں ہسپتالوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔

الانصاری نے کہا کہ ہسپتالوں اور ایمبولینسوں پر بمباری غزہ سے غیرملکیوں کے انخلاء کے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں معاون نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسئلے کے مستقل حل کے بغیر مشرق وسطی کا خطہ منصفانہ امن سے لطف اندوز نہیں ہو گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں