فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیر کی غزہ کی پٹی پر بم حملےکی دھمکی پر سخت برہمی، وزیر کی برطرفی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے ایک وزیر کے غزہ میں ایٹمی حملے سے متعلق بیان نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔

اسرائیلی وزیر برائے ثقافتی امور امیچائی الیاہوں نےایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر بم گرانے کے لیے تیا ہے۔

ریڈیو کول براما کے ساتھ ایک انٹرویو میں انتہائی دائیں بازو کی اوٹزما یہودیت پارٹی سے وابستہ وزیر نے کہا کہ "غزہ کی پٹی پر جوہری بم گرانا میز پر موجود آپشنز میں سے ایک ہے"۔

غزہ کے تمام شہری ملوث ہیں

انہوں نے کسی بھی انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر اپنے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نازیوں کو انسانی امداد نہیں پہنچائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں کوئی معصوم نہیں‘‘۔

انتہا پسند وزیر جواس وقت سکیورٹی کی وزارتی کونسل کا رکن نہیں ہے اور اس لیے اس کا حماس اور غزہ کی پٹی کے خلاف جنگ کا انتظام کرنے والی ہنگامی حکومت پر کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ اس سے قبل پوری فلسطینی پٹی پر قبضے کا مطالبہ کر چکا ہے‘‘۔

"غزہ کے عفریت"

اسرائیلی وزیر نے غزہ میں فلسطینی آبادی کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ "وہ آئرلینڈ یا صحراؤں میں جا سکتے ہیں۔ غزہ میں موجود عفریتوں کو خود ہی اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔" انہوں نے بارہا دہرایا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی کو اپنے وجود کا کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "فلسطین کا جھنڈا یا حماس کا جھنڈا لہرانے والے کو قتل کر دینا چاہیے، اسے روئے زمین پر زندہ نہیں رہنا چاہیے"۔

اس کے ان بیانات نے سوشل میڈیا پر عدم اطمینان اور غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔ اتوار کو’ایکس‘ پلیٹ فارم پر بہت سے صارفین نے ان "نفرت انگیز نسل پرستانہ خیالات" پر کڑی تنقید کی ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے الیاہو کے تبصروں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک کی فوج شہریوں کو مارنے سے گریز کرنے کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتی ہے۔

وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے الیاھو بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ اچھی بات ہے کہ وزیر ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں جن پر ملکی سلامتی کی ذمہ داری ہے"۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے وزیر ثقافت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ان کی تجویز ایک غیر ذمہ دار وزیر کی طرف سے جاری کی گئی خوفناک اور پاگل پن پر مبنی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا: "نیتن یاہو کو اسے فوری طور پر برطرف کرنا چاہیے"۔

درایں اثناء حماس نے اس بیان کے رد عمل کہا کہ " یہ محض ایک وزیر کے الفاظ نہیں بلکہ عملا نیتن یاہو حکومت غیر مسبوق دہشت گردی کی مرتکب ہے‘‘۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ "نام نہاد ہیریٹیج منسٹر کے بیانات اس حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف روا رکھی جانے والی غیر مسبوق دہشت گردی اور اس کی علامتوں کی عکاسی کرتے ہیں اور پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر نے جو کہا وہ کوئی حیران کن نہیں۔ امریکا اور مغرب کی حمایت میں اسرائیلی حکومت عملا ایسے ہی جرائم کی مرتکب ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ انتہا پسند وزیر کی جانب سے دی گئی ان اشتعال انگیز آراء کے بعد بتایا گیا تھا کہ انہیں اگلے نوٹس تک کام سے معطل کر دیا گیا ہے، تاہم باضابطہ طور پر اس کی برطرفی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں