امریکہ 'حماس اور غزہ کی مکمل تباہی کے بعد 'کے منظر نامے کے لیے متحرک ہو گیا

محمود عباس نے بلنکن سے ملاقات میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا ہے اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ یہ بات اتھارٹی کے صدر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے مغربی کنارے کے اچانک دورے کے موقع پر ان سے ملاقات کے دوران کہی ہے۔

محمود عباس کا کہنا تھا ' غزہ میں جاری نسل کشی اور تباہی کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ہمارے فلسطینی غزہ میں اسرائیل کی جنگی مشین کے ہاتھوں میں ہیں۔ اسرائیل انہیں کسی بھی اصول ضابطے اور بین الاقوامی قانون کی پروا کیے بغیر کچل رہا ہے ۔

صدر محمود عباس کے یہ الفاظ فلسطین کے سرکاری خبر رساں ادارے ' وفا ' نے رپورٹ کیے ہیں۔

بلنکن نے نے اتوار کے روز مغربی کنارے کا ایسا دورہ کیا ہے جس کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا، اس ناطے امریکی وزیر خارجہ مغرب کنارے کی صورت حال کے پیش نظر خاموشی سے اور اچانک دورے پر آئے۔

وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ اور غزہ پر مسلسل ہونےو الی اسرائیلی بمباری سے پیدا ہونے والی خطے میں صورت حال کے بارے میں علاقائی رہنماوں سے بات چیت کے لیے ایک مہینے میں دوسری بار اسرائیل پہنچے ہیں۔ یہاں مغربی کنارے میں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماوں کے درمیان یہ ملاقات اتھارٹی کی ہیڈ کوارٹرز رام اللہ میں ہوئی۔

محمود عباس نے امریکی وزیر خارجہ سے گفتگو میں کہا ' غزہ میں فوری جنگ بندی لازمی ہے۔ نیز انسانی بنیادوں پر امدادی اشیاء کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کی گفتگو نسبتا زیادہ مایوسی لیے ہوئے تھی۔

دوسری جانب امریکی ترجمان برائے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس موقع پر بلنکن نے محمود عباس سے کہا ' فلسطینیوں کو جبراً نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔'

دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ' دونوں نے باہمی تبادلہ خیال میں فلسطینیوں کے خلاف مغربی کنارے میں انتہا پسندانہ تشدد کو روکے جانے پر بات کی ۔'

ادھر فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی غزہ میں بمباری کی مہماتی سیریز جاری رکھے ہوئے ہے ۔

اس میں اب تک تقریباً 9500 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ تاہم وزیر خارجہ نے جنگ بندی کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگ کو وقفوں سے چلانا بہتر ہے۔ بلنکن نے کہا امریکہ اس وقت حماس سمیت تباہ شدہ غزہ کو کس طرح چلانا ہے اس بارے میں گفتگو شروع کرا رہے ہیں۔

اس تناظر میں بلنکن نے ایک موثر فلسطینی اتھارٹی کی ضرورت پر زور دیا ۔ گویا کہے بغیر انہوں نے غزہ بھی فلسطینی اتھارٹی کو دینے کا اشارہ دیا ہے۔
خیال یہی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی ہی سے غزہ کو چلوانے کی کوشش کی جائے گی ، تاہم اس مقصد کے لیےدوسرے ملکوں، بین الاقوامی اداروں کو بھی ایک غزہ کی سیکورٹی اور گورننس کے امور پرعبوری انداز میں چیزوں کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے دوران یہ ایسے اشارے ایسے موقع پر دیے ہیں جب مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے بارے میں عمومی تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ یہ نا اہل ، غیر مقبول عہدے داروں پر مشتمل ہے۔ 87 سالہ محمود عباس حماس کے نمایاں ترین مخالفین میں سے ایک ہیں۔

امریکی وزیر ارجہ نے اس انداز سے حماس کی مکمل تباہی کے مفروضے پر مصر اور اردن کے وزائے خارجہ نے بعد از حماس کے منظر نامے پر غور کی دعوت کو قبل از وقت قرار دیا۔ دونوں وزرائےخارجہ نے غزہ میں جنگ بندی پر زور دیا ۔ جس کی طرف ابھی تک امریکہ اور اسرائیل آنے کو بالکل تیار نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں