مغویوں کی رہائی میں غلط بیانی اور اسرائیلی فوج کا عمل رکاوٹ بنتا ہے۔ وزیراعظم قطر

مغویوں کی رہائی ٹھنڈا ماحول چاہتی ہے۔ حماس کا دوحہ دفتر کھلا رہے گا ترجمان وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطر نے غزہ میں مغویوں کی رہائی کے سلسلے میں اسرائیلی غلط بیانی پر مبنی دعووں کو رد کیا ہے۔

اس سلسلے میں قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے کہا 'اسرائیل کی طرف سے مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات بارے غلط رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں۔

مغویوں کی رہائی میں اصل رکاوٹ اسرائیل کا فوجی عمل بن رہا ہے۔ وزیر اعظم قطر نے اس امر کا اظہار اتوار کے روز کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے غزہ میں موجود مغویوں کی رہائی کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے ' کسی بھی مغوی کی رہائی کے لیے ٹھنڈا اور پر امن ماحول ضروری ہوتا ہے۔

سازگار ماحول نہ ہوتو مذاکرات کاروں اور ثالثوں کے لیے مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اور ان کے لیے اپنا کام کرنا آسان نہیں رہتا۔'

ترجمان نے کہا حماس کا دوحہ میں قائم دفتر اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک یہ امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ قطری ترجمان نے یقین ظاہر کیا کہ رفح کی راہداری جلد کھل جائے گی اور غزہ سے شہریوں کو محفوظ انخلا کا موقع مل جائے گا.

واضح رہے قطری ثالث حماس پر زور دے رہے ہیں کہ مغویوں کی رہائی کی رفتار کو تیز کرے ، بشمول خواتین اور بچے جو غزہ میں موجود ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے اسرائیل سے کسی قسم کی توقع کیے بغیر رہائیوں میں تیزی لائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل زیر محاصرہ اور بمباری سے تباہ شدہ غزہ پر ایک بڑے زمینی حملے کے لیے تیار ہے۔

قطر کا مغویوں کی رہائی کے لیے امریکہ ، حماس اور اسرائیل کے ساتھ رابطہ ہے۔ تاکہ دو سو سے زائد اسرائیلی مغویوں کی رہائی جلد سے جلد ممکن بنائی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں