اسرائیل کا آباد کاروں کو مسلح کرنے پر زور مگر امریکا تذبذب کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں جنگ کے بعد سے چار ہفتوں میں مغربی کنارے کی حالت بہتر نہیں ہے بلکہ وہاں کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے "تیسرے جنگی محاذ" کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

آبادکاروں کے لیے امریکی ہتھیار!

اسرائیلی قومی سلامتی کمیٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایلیزر روزنبام نے حفاظتی جیکٹوں اور ہیلمٹ کے ساتھ ساتھ سینکڑوں رضاکار سکیورٹی ٹیموں میں ہزاروں ہتھیار تقسیم کیے، جبکہ انہوں نے آتشیں اسلحے کے حصول کے لیے شرائط میں نرمی کی ہے۔

اسرائیلی عہدیدار کے اس اقدام کے بعد غرب اردن میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

تاہم واشنگٹن اس پیش رفت سے پریشان ہے۔ اس نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ناقابل یقین حد تک عدم استحکام" قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ وہاں فلسطینیوں کے خلاف جاری خلاف ورزیاں بند کرے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق تل ابیب نے واشنگٹن سے مزید ہتھیاروں کی درخواست کی ہے جنہیں آباد کاروں کو دیا جائے گا۔ امریکی قانون سازوں اور محکمہ خارجہ کے اہلکاروں نے ان ہتھیاروں کے آباد کاروں کے ہاتھ پہنچنے پر خدشات کا اظہار کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ ہفتے کانگرس کی کمیٹیوں کو رائفلوں کی فروخت کا ایک غیر رسمی نوٹیفکیشن پیش کیا، لیکن اس معاملے نے تشویش میں اضافہ کیا اور وزارت خارجہ کو اسرائیل سے مزید سخت سوالات پوچھنے کی تاکید کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ ہتھیاروں کے استعمال کا ارادہ کیسے رکھتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ میں انسانی حقوق کے امور پر کام کرنے والے عہدیداروں نے بھی اسرائیلی درخواست کو منظور کرنے سے قبل اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور تل ابیب میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ممکنہ خدشات پر تبادلہ خیال کیا۔

زیتون کے کاشت کار فلسطینیوں کے لیے آباد کار سنگین خطرہ

اسرائیلی حکام اور آباد کاروں نے دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر کے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے عام شہریوں میں ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر تقسیم ضروری ہے۔

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ میں سیاسی و عسکری امور کے دفتر کی اسسٹنٹ سکریٹری جیسیکا لیوس نے کہا کہ ان کے ملک کو اسرائیلیوں کی طرف سے یقین دہانی ملی ہے کہ یہ ہتھیار صرف اسرائیلی پولیس کے زیر کنٹرول یونٹس میں جائیں گے۔

پیچیدہ مرکب اور 34 ملین ڈالرکے ہتھیار

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے امریکی ہتھیاروں کے مینوفیکچررز سے 34 ملین ڈالر مالیت کی نیم خودکار اور خودکار رائفلز کی درخواست کی تھی لیکن ان تینوں قسطوں کے لیے وزارت خارجہ کی منظوری اور کانگریس کے نوٹیفکیشن کی ضرورت ہے۔

اسرائیل نے کہا کہ یہ رائفلیں پولیس استعمال کرے گی لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا کہ یہ عام شہریوں کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔

اسرائیل کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو آباد کاروں سے بچانے کے لیے بین الاقوامی مطالبات کا سامنا ہے۔

مغربی کنارا ایک ایسا خطہ ہے جو پہاڑی شہروں، اسرائیلی بستیوں اور فوجی چوکیوں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے جو فلسطینی آبادی والے علاقوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے انہیں ٹکڑوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی تشویش میں سے ایک فلسطینیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق اس سال کے آغاز سے لے کر گذشتہ سات اکتوبر تک مغربی کنارے میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 220 سے تجاوز کر گئی جب کہ کم از کم 29 اسرائیلی مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں