اسرائیل کی نظریں صحرائے سینا پر تھیں، اس لیے تل ابیب قاہرہ پر دباؤ ڈالا رہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کرنے کے حوالے سے مصر کے واضح موقف کے باوجود اسرائیل مصر پر فلسطینیوں کو اپنے ہاں بسانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ حالانکہ مصر نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو سختی کے ساتھ رد کردیا ہے۔

چھ سینیر غیر ملکی سفارت کاروں نے انکشاف کیا حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے خاموشی سے غزہ سے لاکھوں شہریوں کو مصر منتقل کرنے کے لیے بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسرائیلی رہ نماؤں اور سفارت کاروں نے نجی طور پر کئی غیر ملکی حکومتوں کو اس خیال کی تجویز پیش کی ہے اور اسے ایک انسانی اقدام کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے فلسطینی شہریوں کو غزہ میں جاری جنگ کے خطرات سے عارضی طور پر بچ نکلنے اور عارضی طور پرصحرائے سینا میں پناہ گزین کیمپوں میں جانے کی اجازت ملے گی۔ کیونکہ اسرائیل کسی صورت غزہ میں جنگ بندی پر تیار نہیں۔

مصر کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش

سفارت کاروں نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز کو امریکا اور برطانیہ سمیت تمام ملنے والے اسرائیلیوں کے سامنے تجویز کو مسترد کردیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزہ سے یہ بڑے پیمانے پر اخراج مستقل رہائش میں تبدیل ہو جائے گا اور اس طرح مصر غیر مستحکم ہو جائے گا۔

اس خیال کو فلسطینیوں نے بھی سختی سے مسترد کر دیا، انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیل غزہ میں رہنے والے بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو مستقل طور پر بے گھر کرنے کے لیے سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کو بہ طور جواز استعمال کررہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ سنہ 1948ء کی جنگ کے بعد دوسرا"نکبہ" ہوگا۔

سنہ 1948ء کے نکبہ میں سات لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کردیا گیا تھا اور آج تک انہیں واپس اپنے علاقوں میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

" فلسطینیوں کی عارضی آباد کاری پر زور"

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کچھ اتحادیوں نے غزہ کی آبادی کی بڑی تعداد کو مصر اور خطے اور مغرب کے دیگر ممالک میں عارضی طور پر منتقل کرنے کے خیال کی کھلے عام حمایت کی ہے۔

نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے رکن کنیسٹ اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سابق سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ وہ "غزہ میں شہریوں کے انخلاء کی حمایت کرتے ہیں تاکہ اسرائیل کو زمینی حملے کے دوران کارروائیوں کی مزید گنجائش فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اپنی افواج اور عام شہریوں کے درمیان سولین کی ہلاکتوں کا تناسب کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نہ صرف مصری بلکہ پوری عالمی برادری سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور انہیں قبول کرنے کی حقیقی کوشش کریں گے"۔

تاہم ڈینن جواسرائیلی حکومت میں شریک نہیں ہیں نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ان کا ملک غیر ملکی حکومتوں پر اس طرح کے منصوبے کی حمایت کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور بستیوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے پہلے دنوں کے بعد سے مصر نے فلسطینیوں کو جبری طور پر جزیرہ نما سینا میں منتقل کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ کے رہائشیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوب کی طرف بھاگ جائیں اور جب تک انہیں اس کی اطلاع نہ دی جائے واپس نہ جائیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیناء کے بارے میں مصریوں کے خدشات نئے نہیں ہیں، بلکہ برسوں پیچھے چلے جاتے ہیں، لیکن جب بھی غزہ کی پٹی ایک نئی جنگ کا مشاہدہ کرتی ہے، وہ منظر عام پر آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں