فلسطین اسرائیل تنازع

اقوام متحدہ سمیت 18 اداروں نے غزہ پر اسرائیلی بمباری ناقابل برداشت قرار دیدی

بہت ہو چکا، فوری جنگ بندی کی جائے۔ انسانی بنیادوں پر ریلیف کا کام کرنے دیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ جنگ بندی کا یہ مطالبہ ایک مشترکہ بیان کی صورت میں جاری کیا گیا ہے۔ واضح رہے مشترکہ مطالبے کا یہ بیان غیرروایتی ہے کہ پہلی مرتبہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے فلسطینیوں کے لیے مشترکہ طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

جنگ بندی کے اس بیان میں کہا گیا ہے 'بس بہت ہوچکا۔ اب یہ سب بند ہونا چاہیے۔'

'انٹر ایجنسی سٹینڈنگ کمیٹی' کے نام سے جانی جانے والی 18 تنظیموں کے سربراہان نے فلسطین میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری کردہ بیان پر دستخط کیے ہیں۔

جاری کردہ مشترکہ بیان میں اسرائیل پر حماس کے حملے اور اسرائیلی حکام کی جانب سے بتائی گئی 1400 افراد کی ہلاکتوں اور 200 سے افراد کے یرغمال بنائے جانے کی مذمت کی گئی۔

5 نومبر 2023 کو لوگ اپنا کچھ سامان لے کر صلاح الدین روڈ کے ذریعے پیدل ہی وسطی غزہ کی پٹی پہنچ رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
5 نومبر 2023 کو لوگ اپنا کچھ سامان لے کر صلاح الدین روڈ کے ذریعے پیدل ہی وسطی غزہ کی پٹی پہنچ رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

نیز اسرائیلی بمباری کی وجہ سے 23 لاکھ فلسطینیوں کے خوراک، پانی، دوائی، بجلی سے محرومی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے گھروں، ہسپتالوں، پناہ گاہوں پر بمباری کر رہا ہے، اب اس کی ہر حد عبور ہو چکی ،یہ ناقابل قبول ہے۔

اسرائیلی فضائی حملوں سے متاثرہ UNRWA پناہ گاہ کی جگہ۔ (ایکس: UNRWA)
اسرائیلی فضائی حملوں سے متاثرہ UNRWA پناہ گاہ کی جگہ۔ (ایکس: UNRWA)

خبر رساں ادارے کے مطابق حماس نے اتوار کے روز بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع ہسپتالوں کے آس پاس شدید بمباری کی ہے۔ یہ بمباری مواصلات سے متعلق ہر سہولت اور سرگرمی کو منقطع کرنے کے فوری بعد کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں