فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی وزیرخارجہ کا عراق کا پہلا دورہ ، خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال

بلیسٹک جیکٹ پہن کر بغداد ائیر پورٹ اترے اور 'بلیک ہاک 'ہیلی کاپٹر پرگرین زون پہنچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن اسرائیل حماس جنگ کے اہم مرحلے پر مشرق وسطیٰ کے جاری دورے کے سلسلے میں عراق پہنچے۔ خطرناکی کو چھو رہی خطے کی صورت حال کے پیش نظر بلینکن کے دورہ کو مغربی کنارے کے بعد عراق میں بھی پہلے خفیہ رکھا گیا تھا، امریکہ کی طرف سے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔

بلینکن بظاہر غیر اعلانیہ اور سرپرائز دورے پر عراق میں اترے ۔ جہاں انہوں نے پہلے امریکی سفارت خانے میں ایک سیکیورٹی بریفنگ لی کہ خطے میں بالعموم اور عراق میں بالخصوص امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں کی طرف سے لاحق خطرے کی سطح کیا ہے۔ نیز ان گروپوں کی طرف سے کیے جانے والے ڈرون اور راکٹ حملوں کا تدارک کیسے کیا جا رہے ہے۔

بعد ازاں انہوں نے عراقی وزیر اعظم محمد السوڈانی سے ملاقات کی اور خطے کے بارے میں امریکی ایجنڈے ، ضروریات اور تحفظات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ انٹونی بلینکن کا بطور وزیر خارجہ ، عراق کا یہ پہلا دورہ تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ انہوں امریکہ کی اس خواہش سے آگاہ کیا ہے کہ امریکہ خطے میں اسرائیل حماس جنگ کا پھیلاو نہیں چاہتا ہے۔ بلکہ اس پھیلاو کو روکنا چاہتا ہے۔ امریکہ وزیر خارجہ بلینکن اور دوسرے امریکی حکام ان ملکوں کے ساتھ اپنی سفارتی رابطوں میں فعال ہیں جن کے عوام غزہ کی صورت حال پر زیادہ غصے میں ہیں۔ یا جہاں سے خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے لیے ایسے ملک بھی بطور خاص اہمیت کے حامل ہیں جن کے عوام غزہ میں تباہی اور ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی بچوں ، عورتوں اور عام شہریوں کے بارے میں حساسیت اور غصہ دکھا رہے ہیں یا دکھا سکتے ہیں۔ عراق بھی ان ملکوں میں شامل ہے۔

عراقی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈوں پر پچھلے چار ہفتوں کے دوران کئی ڈرون اور راکٹ حملے کیے جا چکے ہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ اس غزہ کی تباہی کا پوری طرح شراکت دار ہے۔

مزاحمتی گروپوں کی اس سوچ سے خدشہ ہے کہ اسرائیل جن ملکوں میں گھرا ہوا ہے ،ان سے اسرائیلی اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یوں جنگ کی آگ جس نے اب تک صرف غزہ کو ایک الاؤ کی صورت میں جلا رکھا ہے پورے خطے میں بھی پھیل سکتی ہے۔

ان حالات میں بلینکن نے حفاظتی احتیاط کے پیش نظر بغداد ائیر پورٹ پر لینڈنگ کی تو وہ بلیسٹک جیکٹ پہنے ہوئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے بغداد کے گرین زون میں بھی 'بلیک ہاک 'ہیلی کاپٹرپر ہی پہنچنے کا اہتمام کیا۔

واضح رہے بلینکن کی مشرق وسطیٰ آمد سے ایک ہی روز پہلے لبنانی مسلح ملیشیا حزب اللہ نے دھمکی دی تھی کہ بلینکن کے دورے کے موقع پر جنگی پھیلاؤ غیر روایتی ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ بغداد کے بعد ترکیہ کے دورے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ اتفاق سے اردن کا وہ دورہ کر چکے ہیں اور ترکیہ کا دورہ عراق کے بعد ہوگا۔ ان دونوں ملکوں نے غزہ میں تباہی اور ہلاکتوں کے خلاف ردعمل میں اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں خرابی پیدا کرلی ہے۔ جبکہ عراق سے امریکی سفارت خانے کے خلاف بیانات آ چکے ہیں۔ مزاحمتی مسلح گروپوں کی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کی دھمکیاں اس کے علاوہ ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کو عراقی وزیر اعظم نے امریکی تحفظات کے بارے میں اطیمنان دلانے کی کوشش کی ہے اور یہ بھی یقین دلایا ہے کہ عراق میں امریکی تنصیبات خصوصاً مغربی عراق میں عین الاسد میں قائم امریکی فوجی اڈے، بغداد ائیر پورٹ کے نزدیک قائم فوجی اڈے کے علاوہ شمالی عراق میں اربیل شہر میں قائم حریر فوجی اڈے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

نیز اب تک عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر جو راکٹ حملے یا ڈرون حملے ہو چکے ہیں ان کے بارے میں چیزوں کو دیکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں