سعودی عرب نے ہمیں 500 ملین ڈالر کی امداد دی:عالمی زرعی ترقیاتی فنڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (IFAD) نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب تمام عرب ترقیاتی امداد کا تقریباً دو تہائی حصہ دیتا ہے۔سنہ 1977ء میں اقوام متحدہ کے قیام سے لے کر آج تک سعودی عرب کی امداد تقریباً 500 ملین ڈالرتک پہنچ چکی ہے۔ اس طرح سعودی عرب نے زرعی ترقیاتی فنڈ کے قیام میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو مجموعی طور پر فراہم کردہ فنڈز کے لیے ہرممکن مالی امداد فراہم کی اور خلیجی ریاستوں نے فنڈ کی مالی امداد کا تقریباً 20 فیصد فراہم کیا۔

اقوام متحدہ کی تنظیم IFAD میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر دینا صالح نے کہا کہ فنڈ کے مقاصد ڈیجیٹائزیشن کو بڑھا کر خوراک کے جامع نظام کو بہتر بنانے اور زرعی تبدیلی کو فروغ دے کر مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ مقاصد سعودی عرب میں معاشرتی اور معاشی خوشحالی کے پروگرام میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں نشاندہی کی کہ IFAD کا سعودی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔اس کا مقصد ان شعبوں میں وزارت کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے جن میں اقوام متحدہ کی تنظیم علم اور تجربہ رکھتی ہے۔

دوسری جانب انہوں نےکہا کہ 1978ء سے فنڈ نے ترقی پذیر ممالک میں منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے 24 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی گرانٹ اور کم سود پر قرضے فراہم کیے ہیں، جب کہ عرب ممالک کو ان منصوبوں کا بڑا حصہ ملا۔اس وقت بھی عرب ممالک میں فنڈ کی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کی تعداد 149 ہے جن پر 6.5 بلین امریکی ڈالر خرچ آیا ہے۔

عرب خطے اور پوری دنیا میں فنڈ کے منصوبوں اور ان کی اہمیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں دینا صالح نے کہا کہ ’ایفاد‘ ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اور اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی ہے۔ اس کا صدر دفتر اٹلی کے شہر روم میں ہے۔ یہ واحد ادارہ ہے جس نے زراعت اور دیہی ترقی کے ذریعے دیہی علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر کسانوں کے لیے غربت کم کرنے اور غذائی عدم تحفظ کو کم کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

IFAD دیہی لوگوں اور چھوٹے کسانوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے تاکہ ان کی غربت کو کم کرنے، ان کے علاقوں میں لچک کو مضبوط کرنے، فوڈ سکیورٹی کو بڑھانے اور غذائیت کو بہتر بناتے ہوئے انہیں با اختیار بنایا جا سکے۔

سنہ 1978ء سے، فنڈ نے ترقی پذیر ممالک میں منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے 24 ارب ڈالر سے زیادہ کی گرانٹس اور کم شرح سود کے قرضے فراہم کیے ہیں۔ عرب خطے کو ان منصوبوں کا بڑا حصہ ملا، عرب ممالک کو ملنے والے منصوبوں کی تعداد149 ہے جن پر 6.5 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی گئی۔

سعودی عرب میں ایفاد کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ سعودی عرب کی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے تعاون سے جازان کے علاقے میں لاگت کے قابل واپسی تکنیکی معاونت کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز فروری 2018 میں فوڈ سکیورٹی کے پائیدار اہداف کے حصول میں مدد کے لیے کیا گیا تھا۔ جازان کے علاقے میں اس کے پہلے مرحلے میں اس منصوبے کی لاگت 3.9 ملین ڈالر ہے، جس سے زرعی مقامات اور فیلڈز میں کافی اور آم کی فصلوں کی پیداوار کو بڑھایا جائے گا۔ عربیکا کافی کی چھوٹی ہولڈنگز کے لیے ماڈل فارمز اور آم کے لیے ماڈل فارمزکے پروجیکٹ سے چھوٹے کسان مستفید ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سعودی عرب میں تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

اس پروجیکٹ نے موسمیاتی سمارٹ کافی کی کاشت کے لیے ایک ماڈل کو نافذ کرکے اور فارم مینجمنٹ کے لیے جیومیٹکس ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے زرعی اختراعات کو بھی فروغ دیا جس میں فارموں کی ڈیجیٹل نگرانی، ان کی ڈیجیٹلائزیشن اور GPS سسٹم کے مطابق ان کی شناخت شامل ہے۔ اس میں زیر زمین فرٹیلائزیشن اور شیڈنگ سسٹم کے علاوہ کیڑوں کے پھیلاؤ اور مربوط کنٹرول کی نگرانی بھی شامل ہے۔

ہم فی الحال اس پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ آنے والے ادوار میں اس پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

فنڈ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی، پانی، نقل مکانی اور نوجوانوں کے روزگار جیسے بنیادی مسائل پر مملکت کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مضبوط کرنے کا منتظر ہے جس سے دیہی ترقی، خوراک کی حفاظت اور عالمی سطح پر ان کے تعاون سے فائدہ اٹھانے کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں