عالمی مطالبات کے باوجود یرغمالیوں کی واپسی تک جنگ بندی نہیں ہوگی: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی سے انکار کردیا ہے۔ اتوار کو نیتن یاھو نے کہا کہ غزہ کی جنگ میں ہمارے قیدیوں کی واپسی تک جنگ بندی نہیں ہو گی۔ جنوبی اسرائیل میں ایک فضائی اڈے کے دورہ کے دوران انہوں نے کہا ہم اپنے دشمنوں اور دوستوں کو یکساں طور پر یقین دلاتے ہیں۔ جب تک ہم انہیں شکست نہیں دے دیتے ہم لڑائی جاری رکھیں گے۔

جمعہ کے روز بھی نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی سے قبل ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

نیتن یاہو نے تل ابیب میں امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل ایسی عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتا ہے جس میں ہمارے یرغمالیوں کی رہائی شامل نہیں ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے حکام کے مطابق زمین پر اسرائیلی فضائی حملوں نے اتوار کی صبح وسطی غزہ کی پٹی میں ایک پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

یہ فضائی حملے ایک دن بعد ہوئے جب امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر عمل درآمد کرے۔ صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز اشارہ کیا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ واضح رہے غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 9700 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی پر تشدد کارروائیوں میں 140 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں