غزہ میں جنگ بندی کے مخالفین 'موت کی تائید اور جواز فراہم کر رہے ہیں': ملکہ رانیہ

بلنکن کی جنگ بندی کی مخالفت کا ردِعمل؛ تباہ کن انسانی حالات کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اردن کی ملکہ رانیہ نے اتوار کے روز غزہ میں جنگ بندی کے لیے اجتماعی مطالبے پر زور دیا اور کہا کہ جن لوگوں نے جنگ بندی کی مخالفت کی، وہ "ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کی تائید اور جواز فراہم کر رہے ہیں۔"

سی این این کی بیکی اینڈرسن کے ساتھ ایک جامع انٹرویو میں ملکہ رانیہ نے عمان کے دورے کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کی طرف سے جنگ بندی کو مسترد کرنے پر ردِعمل دیا۔

ہفتے کے روز عرب رہنماؤں سے ملاقات کے بعد بلنکن نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی صرف حماس کو مزید حملوں کے قابل بنائے گی۔

ملکہ رانیہ نے کہا: "جنگ بندی کے لیے ایک اجتماعی مطالبہ ہونا چاہیے اور میں جانتی ہوں کچھ لوگ جو جنگ بندی کے خلاف ہیں، یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے حماس کو مدد ملے گی۔ تاہم اس دلیل میں وہ ذاتی طور پر موت کو مسترد اور درحقیقت ہزاروں شہریوں کی موت کی تائید اور جواز پیش کر رہے ہیں۔ یہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت، کوتاہ بینی اور مکمل طور پر بے عقلی ہے۔"

"اگر [اسرائیل] حماس کو ختم کر دیتا ہے تو اس تنازعے کی بنیادی وجہ اس کا غیر قانونی قبضہ، انسانی حقوق کی معمول کی خلاف ورزیاں، غیر قانونی آباد کاری، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ہم بنیادی وجوہات پر توجہ نہیں دیتے تو آپ جنگجو کو مار سکتے ہیں لیکن اس وجہ کو نہیں مار سکتے۔"

ملکہ رانیا نے غزہ میں "تباہ کن انسانی صورتِ حال" کی مذمت کی اور پوچھا: "ہمارے عالمی ضمیر کے بیدار ہونے سے پہلے اور کتنے لوگوں کو مرنا ہوگا؟ یا جب فلسطینیوں کی بات آتی ہے تو یہ ہمیشہ بے حس ہوتا ہے؟"

انہوں نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں تقریباً 10,000 اموات ہو چکی ہیں جن میں سے تقریباً نصف بچے ہیں۔

انہوں نے کہا۔ "یہ صرف تعداد نہیں ہیں۔ ان بچوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی کے لیے سب کچھ تھا۔"

انہوں نے مزید کہا، "غزہ میں ایک مخفف ہے: ڈبلیو سی این ایس ایف۔ یعنی وہ زخمی بچہ جس کا کوئی زندہ خاندان نہیں بچا۔ یہ ایک مخفف ہے جس کا کبھی وجود نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ غزہ میں ہے۔"

جب اسرائیل کے اس دعوے کے بارے میں پوچھا گیا کہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو ملکہ رانیا نے زور دے کر کہا، انسانی ڈھال کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت "مجرمانہ" ہے تو اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچیں۔

محترمہ نے کہا۔ "کوئی گولی چلانے سے پہلے، کوئی بم گرانے سے پہلے یہ قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان کو لاحق خطرے کا اندازہ کرے۔ اور اگر یہ خطرہ فوجی ہدف کے حوالے سے غیر متناسب ہے تو اسے غیر قانونی سمجھا جائے۔"

اگرچہ اسرائیل کی طرف سے انخلاء کے کئی احکامات آن لائن یا ٹیلی ویژن پر جاری کیے جاتے ہیں لیکن محترمہ نے کہا، وہ نہیں مانتیں کہ یہ احکامات غزہ کے شہریوں کے فائدے کے لیے ہیں، اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ غزہ کی پٹی میں کئی ہفتوں سے بجلی منقطع ہے۔

انہوں نے کہا، "ان اعلانات کے سامعین وہ نہیں؛ باقی دنیا ہے. یہ اسرائیل کی ایک کوشش ہے کہ وہ اپنے اقدامات کو جائز قرار دے۔"

انہوں نے کہا، "جب 1.1 ملین لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا گھر چھوڑ دیں یا موت کا خطرہ مول لیں تو یہ عام شہریوں کا تحفظ نہیں ہے۔ یہ جبری نقلِ مکانی ہے۔"

"اقوامِ متحدہ کے اداروں اور دیگر ایجنسیوں نے کہا ہے کہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ حتیٰ کہ جن علاقوں میں انہوں نے لوگوں کو پناہ لینے کے لیے کہا ہے - وہ نام نہاد 'محفوظ زون' - ان پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔"

امریکہ میں یہودی اور مسلمان دونوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں محترمہ نے مکمل طور پر اور دل کی گہرائی سے" سام دشمنی اور اسلامو فوبیا دونوں کی مذمت کی اور مزید کہا کہ مسلمانوں کو سب سے پہلے سام دشمنی کی مذمت کرنی چاہیے کیونکہ اسلامو فوبیا اسی بیماری کا "دوسرا رخ" ہے۔

انہوں نے کہا۔ "ہماری پرامن بقائے باہمی کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ تو یہ مذہب کے بارے میں نہیں، یہ سیاست کے بارے میں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں