ایہود بارک نے امریکہ اور یورپ میں بھی حمایت کم ہونے سے خبردار کر دیا

''وقت تھوڑا اور مقابلہ سخت'' شہریوں کی غیر معمولی ہلاکتوں پر عالمی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود بارک نے اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ حماس کے خلاف جنگ جیتنے میں اس کے پاس محض چند ہفتے کی مہلت ہے۔ ان چند ہفتوں کے دوران فلسطینی عسکری گروپ حماس کو مکمل تباہ کرنا ضروری ہے۔

کیونکہ عالمی رائے عامہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے خصوصاً امریکی رائے عامہ کی اہمیت اور بھی زیادہ جو تیزی سے اسرائیل کے خلاف ہوتا جا رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم ایہود بارک اسرائیلی کے ریٹائرڈ فوجی سربراہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بیانیہ حالیہ چند دن میں تبدیل ہو گیا ہے اور انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفوں کی بات بھی کیے جانے لگی ہے۔

اسرائیل کے حق میں حمایت صرف حماس کے سات اکتوبر کے حملوں کی وجہ سے ہے۔ لیکن اب لوگ یہ بھول رہے ہیں۔

ایہود بارک نے کہا آپ دیکھ سکتے ہیں کھڑکی بند ہو رہی ہے۔ یہ بھی صاف اور واضح ہے کہ امریکہ اور ہمارے درمیان جارحیت کے معاملے پر دراڑ آ رہی ہے۔ لیکن یہ بات کھلی ہے کہ امریکہ اسرائیل کو یہ حکم نہیں دے سکتا کہ ایسا کرو اور ایسا نہ کرو۔ لیکن یہ بھی اہم ہے کہ ہم امریکہ کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتے۔

وہ حال ہی میں شروع کیے گئے زمینی حملے کا حوالہ دے رہے تھے۔ امریکہ کے حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا ہمیں اگلے دو تین ہفتوں میں یا ممکنہ طور پر اس سے بھی پہلے امریکہ کے ساتھ اس کے مطالبات پر ڈیل کرنا پڑے گا۔

سابق وزیر اعظم اسرائیل نے کہا حماس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہمارے پاس چند ماہ یا ایک سال لگ سکتا ہے۔ یقیناً جنگی کابینہ کا اولین ہدف یہی ہے۔ لیکن مغربی حمایت میں کمزوری آ رہی ہے۔ وجہ غزہ میں عام لوگوں اور شہریوں کی ہلاکت ہے۔

غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے مغربی طاقتوں کو خوف ہے کہ جنگ کافی دور تک پھیل جائے گی۔ حتی کہ پورے علاقے میں جنگ پھیل سکتی ہے۔ ہم مغربی ملکوں میں عوامی حمایت کھو رہے ہیں۔ اگلے دو تین ہفتوں کے دوران ہم مغربی حکومتوں کی حمایت سے بھی دور ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں