طاقت کے استعمال میں کوئی قید نہیں، اسرائیل کا الرنتیسی چلڈرن ہسپتال خالی کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان آج منگل کو گھمسان کی جنگ جاری ہے جب کہ جنگ بندی یا عارضی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے نفاذ کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کی جانب سے طاقت کے اندھا دھند استعمال کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں عام شہریوں کی اموات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

غزہ کی پٹی کی موجودہ صورت حال پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تباہ کن قرار دیا ہے۔

دوسری طرف امریکا نے بھی غزہ کی پٹی کی صورت حال کو خطرناک قرار دیا ہے۔

تازہ ترین میدانی پیش رفت کے بارے میں ’العربیہ‘ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں بچوں کے واحد بڑے ہسپتال الرنتیسی چلڈرن ہسپتال کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس تناظر میں اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ "غزہ میں ہمارے فوجیوں پر طاقت کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے سامنے کئی دن کی لڑائی باقی ہے اور حماس کے خلاف آپریشن کو مکمل کرنے میں وقت لگے گا "۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم حماس کے رہ نماؤں کو سرنگوں اور خندقوں میں ماریں گے اور حماس کی ایسی کمر توڑیں گے کہ وہ دوبارہ سر نہیں اٹھا سکے گی"۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے ایک مضبوط گڑھ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زمینی افواج غزہ کی پٹی کے شمالی علاقوں میں اس مقام کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ وہاں سے انہیں ٹینک شکن میزائل لانچر، راکٹ ، مختلف ہتھیار اور انٹیلی جنس مواد ملا ہے۔

فوج نے بحریہ کا استعمال کرتے ہوئے حماس کے اہداف پر حملوں کا اعلان بھی کیا۔ ان مقامات میں حماس کے تکنیکی مراکز شامل ہیں۔ فوج نے کہا کہ اس نے متعدد بندوق برداروں کو بھی نشانہ بنایا جو القدس ہسپتال کے قریب ایک عمارت میں چھپے ہوئے تھے جہاں سے انہوں نے اسرائیلی فورسز کے خلاف حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اپنے دوسرے مہینے کے آغاز میں غزہ پر فضائی بمباری کے ساتھ توپ خانے کی شدید شیلنگ کی جا رہی ہے۔

کئی مقامات پر اسرائیلی فوج اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ان میں سب سے زیادہ پرتشدد حملہ پٹی کے شمال میں ہوا جہاں غزہ شہر کا محاصرہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی ٹینک وسطی غزہ میں الشفاء کمپلیکس کے قریب ابوحصیرہ گول چکر پر کھڑے تھے، جب کہ غزہ کی پٹی میں سائرن بج رہے تھے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 20 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب حماس تحریک کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے کہا ہے کہ اس نے دو دنوں کے اندر 27 اسرائیلی گاڑیاں تباہ کی ہیں۔

فلسطینی میڈیا نے بتایا ہے کہ غزہ کے جنوب میں خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 11 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے۔

اس سے قبل ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کے نامہ نگاروں نے شمالی غزہ کے متعدد علاقوں میں نئے سرے سے بمباری اور پرتشدد جھڑپوں کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غزہ میں تل الھویٰ میں قاہرہ اسٹریٹ کو نشانہ بناتے ہوئے ایک اسرائیلی فضائی حملہ کیا گیا۔ فلسطینی میڈیا نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح میں اسرائیلی بمباری میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں