فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد اسرائیل کا سردیوں میں کیا منصوبہ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

محصور غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کو 31 دن گزر چکے ہیں۔ گذشتہ روز سے اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں الگ کر دیا ہے۔

غزہ کی پٹی کے شمال، شمال مشرق اور مغرب سے 10 دن کی زمینی دراندازی کے بعد اسرائیلی فوج کی "ایلیٹ یونٹ" شمالی غزہ کو اس کے جنوب سے الگ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ تاہم انہیں اس لڑائی میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اسرائیلی فوج کے تقریبا تیس کے لگ بھگ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کی پیر کو رپورٹ کے مطابق اگرچہ لڑائی طویل عرصے تک جاری رہنے کی توقع ہے، اسرائیلی فوج نے موسم سرما کے دوران لڑائی کے لیے خصوصی تیاری کر لی ہے۔

اسرائیلی فوج نے پہلے ہی تمام سرحدوں پر اپنے تمام اہلکاروں کو موسم سرما کے لیے مناسب سازوسامان فراہم کرنے کے لیےبھرپور اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ابتدائی ہدف...لیکن!

اسرائیل نے بہ ظاہر اپنے خیال میں ایک بنیادی مقصد حاصل کیا۔ اس نے شمالی غزہ کو اس کے جنوب سے الگ کر دیا ہے اور غزہ شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ حماس کے جنگجوؤں کا گڑھ ہے،قابض فوج نے اتوار کی کو اپنی بکتر بند گاڑیوں کا ایک ڈویژن غزہ شہر میں داخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم بعض مبصرین اسرائیلی فوج کی اس پیش قدمی کو اس کی کامیابی قرار نہیں دیتے۔

اس تناظر میں اردن کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر نے وضاحت کی کہ غزہ میں اسرائیل کے لیے کسی بھی کامیابی کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ اسرائیلی طیارے لڑائیوں کے آغاز کے 31 دن بعد بھی فضائی بمباری میں شدت پیدا کر رہے ہیں۔

سابق بریگیڈیئر جنرل عمر الرداد نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایک ماہ بعد بھی بمباری جاری رہنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر اسرائیلی فوج کو درپیش مسائل سنگین ہیں، انہوں نے کہا کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کی اسرائیل نے حماس کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے مگر کسی بڑی کامیابی کا امکان واضح نہیں۔

لیکن جنگ میں اسرائیل کے اعلان کردہ اہداف محض حماس کو گھیرنے سے کہیں آگے ہیں، کیونکہ اس نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا مقصد حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا اور 2007 سے غزہ میں اس کی مسلسل مسلح موجودگی کو ختم کرنا ہے۔

الرداد نے وضاحت کی، "لڑائیاں ختم ہونے کے بعد چیزیں واضح ہو جائیں گی لیکن یہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، یہ بھی نہیں کہ اسے کس نے شروع کیا تھا۔

اسرائیل زمین پر کہاں کھڑا ہے؟

غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی صحافی جو کہ 15 سال تک اس پٹی میں اسرائیلی جنگوں کی کوریج کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہم ساحلی الرشید اسٹریٹ پر پہنچ کر اسرائیلی فوج نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ قابض افواج تمام مغربی غزہ کو بند کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں اور پٹی کو تقسیم کرنا شروع کردیا ہے۔ اس کے اندر بڑے سڑکوں کے جنکشنوں پر بمباری شروع کرکے انہیں تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "اس طرح یہ غزہ شہر کے باقی شہریوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں"۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج (ایسوسی ایٹڈ پریس)
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج (ایسوسی ایٹڈ پریس)

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنگ کے دوران جنگی جہازوں کے حملوں میں شدت آنے پر سمندری علاقے کے زیادہ تر باشندوں نے اپنے علاقے خالی کر لیے۔ اسرائیل کا ایک مقصد غزہ کے زیادہ تر باشندوں کو اسرائیلی شناخت کے ذریعے پیدل جانے پر مجبور کرنا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی فورسز اب الشاطی کیمپ کے مضافات میں موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر گھر ہفتوں کی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں منہدم ہو گئے تھے۔

غزہ شہر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر

انہوں نے مزید کہا کہ "وہ اب الکرامہ ٹاورز کے علاقے میں ہیں، جن کے ٹاورز کی ایک بڑی تعداد تباہ ہو چکی ہے۔ غزہ شہر کے شمال مغرب میں المخبارات اسٹریٹ اور المشتل ہوٹل کے علاقے (پہلے مووین پک) کے قریب ٹینک موجود ہیں"

جہاں تک شہر کے جنوب کا تعلق ہے صحافی نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوجیں سٹریٹ 10 کے علاقے میں موجود ہیں، جو نیٹزارم کی سابقہ بستی کے قریب ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "اس طرح اسرائیل غزہ شہر کے شمال مغرب، مشرق اور جنوب پر کنٹرول قائم کر رہا ہے اور وہ مغرب کی طرف جنگی جہازوں کے ذریعے صلاح الدین روڈ اور رشد روڈ دوسری سڑکوں کو آسانی سے کاٹ سکتا ہے جس سے مشرقی غزہ کو جنوبی غزہ سے الگ کیا جا سکے گا۔

میدان میں کوئی کامیابی نہیں

لیکن مصری عسکری ماہر میجر جنرل سمیر فرج کا خیال ہے کہ اسرائیل نے توپ خانے سے بمباری جاری رکھنے کے لیے شمالی غزہ کے علاقوں سے کچھ فاصلے تک پیش قدمی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل نے حملہ کرنے کے لیے وادی غزہ کے شمال میں بیت لاہیا، اور بیت حانون کے علاقے کا انتخاب کیا۔ اس نے دفاعی حصار میں گھسنے کی کوشش کی لیکن میدان میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی"۔

انہوں نے یہ کہہ کر صورت حال کا خلاصہ کیا کہ "جیت زمین پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے ہوتی ہے"۔

گم نام سرنگیں

اس کے علاوہ مصری فوج کے ایک اور سابق سینیر افسر نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل نہیں جانتا کہ غزہ میں اس کے زیر کنٹرول علاقوں کے نیچے کیا چیز اس کے انتظار ہے۔ مصر میں پوسٹ گریجویٹ اور اسٹریٹجک اسٹڈیز کے لیے ملٹری اکیڈمی کے مشیر میجر جنرل نصر سالیؤم نے کہا کہ "اسرائیل سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اب تک وہ ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، جو کہ اس کے زمینی آپریشن کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے‘‘۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی افواج "یہ نہیں جانتی ہیں کہ زیر زمین کیا ہے۔ اس لیے وہ دفاع کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہر حصے کو الگ الگ جانچنے کے لیے اور ہر علاقے کو الگ الگ نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غزہ میں المغازی کیمپ پر اسرائیلی بمباری کے اثرات
غزہ میں المغازی کیمپ پر اسرائیلی بمباری کے اثرات

انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ہوا کہ اسرائیلی فوج حماس سے ٹکرانے کے فوری بعد پسپا ہوگئیں۔ اسرائیلی فوج کی جنگ ہوائی جہازں سے بمباری اور توپ خانے کی شیلنگ تک محدود ہے۔

اصل جنگ

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "اصل جنگ اس وقت ہو گی جب اسرائیلی افواج شہروں اور سرنگوں پر حملہ کریں گی۔ اس صورت میں انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا جسے وہ برداشت نہیں کر سکیں گے"۔

فلسطینی صحافی جس نے غزہ کے گرم علاقوں کے اندر 26 دن کی جنگ کو دیکھا نے وضاحت کی کہ حماس اور دیگر مسلح فلسطینی دھڑوں کے ارکان اسرائیلی افواج کو اچانک سرنگوں سے نکل کر حملہ کرکے حیران کر دیتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی سرنگوں کے بارے میں کافی، حتمی یا درست معلومات دستیاب نہیں ہیں، جن کے بارے میں کچھ فلسطینی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی کی سڑکوں اور عمارتوں کے نیچے 500 کلومیٹر سے زیادہ علاقے میں یہ سرنگیں پھیلی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں