نسل پرست اسرائیلی وزیر نے مغربی کنارے میں عربوں کو الگ کردینے کا مطالبہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیرِ ثقافت میچائی الیاہو کے ان اشتعال انگیز بیانات سے اٹھنے والا ہنگامہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ اسرائیل کے وزیر خزانہ سموٹریچ نے ایک نسل پرستانہ بیان دے ڈالا ہے۔ اس بیان کو فلسطینی اتھارٹی نے نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلل سموٹریچ نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے مغربی کنارے میں ایسا بفر زون بنانے کا مطالبہ کردیا جس میں عرب داخل نہیں ہوں گے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اس بیان پر رد عمل دیا اور ان بیانات کو نوآبادیاتی اور نسل پرستانہ قرار دیا۔ وزارت خارجہ نے کہا اس بیان سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے اسرائیل کے ارادوں کا اظہار ہوتا ہے۔

مغربی کنارے کی بستیوں کے آس پاس بفر اور سیف زونز بنانے کے وزیر کے مطالبے پر بھی جھوٹے حیلوں اور بہانوں سے غور کیا گیا۔ اس مجوزہ بفرزون کی آڑ میں اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کی مزید اراضی چرانا ہے۔ اس بفر زون کو موجودہ کالونیوں اور بے ترتیب چوکیوں سے منسلک کرنا اور یہودی بستیوں کو وسیع کرنا بھی مقصود ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی حکومت ان نسل پرستانہ بیانات اور اشتعال انگیزی کے ساتھ اپنے ارادوں اور اپنی پالیسی کو ظاہر کر رہی ہے۔ یہ وہ پالیسی ہے جسے صہیونی حکومت غزہ کی پٹی کو تباہ کر کے اور اس کے باشندوں کو بے گھر کر کے زمین پر نافذ کر رہی ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے تمام ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بیان کی مذمت کریں اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری اور فلسطینی شہریوں کی زمینوں کی چوری کو روکنا ہوگا تاکہ دو ریاستی حل کی حفاظت کی جا سکے۔

یاد رہے ایک ہفتہ سے زیادہ قبل بھی انتہا پسند "مذہبی صیہونیت پارٹی" کے سربراہ سموٹریچ نے وزارت خزانہ کو فلسطینی اتھارٹی کو رقوم کی منتقلی روکنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کے بعد کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں