مشرق وسطیٰ

’’حماس کو ختم نہیں کیا جا سکتا، غزہ پر کٹھ پتلیاں قبول نہیں ہوں گی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے رہنما نے حماس کے بغیر غزہ اور غزہ کے مستقبل کا تعین کرنے کے آئیڈیا کو رد کر دیا ہے۔ لبنان میں مقیم حماس رہنما اسامہ حمدان نے بڑے دوٹوک انداز میں کہا 'جو یہ سوچ رہے ہیں کہ حماس ختم یا غائب ہو جائے گی انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت حماس کو ختم کر سکتی ہے؛ نہ اس کے اثرات کو کم کر سکتی ہے۔'

'حماس غزہ کی پٹی پر کوئی کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں کرے گی۔ بلکہ حماس ہی غزہ میں رہے گی۔' خیال رہے اسرائیل نے حماس کی مکمل تباہی کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کی تائید امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کے حالیہ دورہء مشرق وسطیٰ کے دوران بھی نظر آتی رہی۔

بلنکن نے اسرائیلی حکومتی شخصیات کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کئی رہنماوں سے بھی اس بارے میں بات کی کہ 'حماس کے بغیر غزہ کی آپشن ' پر غور کیا جانا چاہیے۔ غزہ میں اس 'رجیم چینج ' منصوبے پر اردن اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ بھی اس بارے میں بات ہوئی اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر کو بھی اس جانب راغب کیا گیا۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ امریکہ کی اس کوشش کا نفسیاتی اثر بھی ہو گا کہ نہیں۔

وزیر خارجہ بلنکن کے حالیہ دورے کے دوران یہ معاملہ عراق وشام میں امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈرون اور راکٹ حملوں کے خوف اور خوف کے تدارک کے ساتھ اگر کوئی بات سب سے اہم تھی تو یہی تھی۔ امریکہ کے نزدیک یہ آئیڈیا غزہ وفلسطین سے باہر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔

تاہم حماس رہنما اسامہ حمدان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا 'حماس فلسطینی عوام کے دلوں میں شعور میں رہے گی، کوئی زمینی قوت حماس کو ختم یا کمزور نہیں کر سکتی۔'

اسامہ حمدان نے کہا 'اسرائیل کے اتحادی امریکہ نے حماس کو منظر سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ ایسا ہی تصور ہے جیسا جنگ عظیم دوم کے دوران نازیوں کی کٹھ پتلی ریاست فرانس میں بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔'

نیوز کانفرنس کے دوران اسامہ حمدان کا کہنا تھا 'ہمارے لوگ امریکہ کو اپنے اوپر کوئی گھڑی گھڑائی انتظامیہ مسلط نہیں کرنے دیں گے۔ ایسی انتظامیہ جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے اچھی ہو۔ ہمارے لوگ ایسی حکومت غزہ میں قبول نہیں کریں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size