فلسطین اسرائیل تنازع

بمباری سے بے گھر ہونے والے شہریوں نے الشفا ہسپتال غزہ میں پناہ لے لی

خوف سے بھاگ کر پھر خوف میں آگئے ہیں، بے گھر ہونے والی ماں کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی بمباری کی زد میں آئے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے در و دیوار اور آس پاس کو بے گھر ہونے والے شہریوں کے ہجوم نے اپنے بسیرے کا مرکز بنا لیا۔

ایک دکھی ماں ام لاما نے کہا ' ہم خوف سے بھاگ کر خوف میں آگئے ہیں۔' کینویس کے عارضی بنائے گئے خیمہ نما پناہیں ہسپتال کی پارکنگ اور فٹ پاتھوں پر بنی نظر اتی ہیں، یہ لوگ اب انہی میں سوتے ہیں۔ اور دن کا وقت سیڑھیوں میں یا فٹ پاتھ پر گذارتے ہیں۔ جبکہ کپڑے دھو کر ہسپتال کی چھت پر لٹکاتے ہیں۔

ان میں ایک ام ھیثم حجیلا ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کو بد ترین بمباری کے خوف میں چھوڑا مگر پھر خوف سامنے ہے۔' ام ھیثم اپنے بچوں کےساتھ یہاں پہنچی ہیں۔

ام ھیثیم کا کہنا ہے صورت حال ہر آنے والے دن میں زیادہ خراب ہو رہی ہے۔ کوئی خوارک نہیں ، پینے کا پانی نہیں ، میرا بیٹا پانی کی تلاش میں جاتا ہے، اسے اس دوران تین سے چار گھنٹے قطار میں لگنا پڑتا ہے۔

میڈیا سے وابستہ افراد نے ہسپتال کا دورہ کیا تو دیکھا کہ اس کی راہداریوں میں دونوں طرف لوگ پڑے ہیں۔ اب راہداریوں میں اتنا رش ہو چکا ہے کہ گذرنے کے لیے بہ راستہ مشکل سے بنتا ہے۔

ان لوگوں کا بچا کھچا سامان سیڑھیوں اور کھڑکیوں میں ٹھنسا ہوا نظر آتا ہے اور ہر طرف بے یارو مدد گار شہری ہیں۔

مگر الشفا ہسپتال کی یہ حالت منفرد نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت غزہ کے ہسپتالوں اور گرجا گھروں میں 122000 بے گھر افراد نے پناہ لینے کی کوشش کر رکھی ہے۔ جبکہ سکولوں میں 827000 شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔

الشفا میں جمع لاگوں کا کہنا ہے کہ وہ تحفظ چاہتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے کیونکہ آس پاس بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل کہہ رہا ہے اس کی فوجوں نے گھیرا ڈال رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں