غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری سے طبی عملے کے192 کارکن شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی خاتون وزیر صحت نے آج بدھ کو اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 192 طبی اہلکار اور 36 سول ڈیفنس اہلکار شہید ہوئے ہیں۔

وزیر می الکیلہ نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے آدھے سے زیادہ ہسپتال یا تو بمباری کی وجہ سے یا ایندھن اور بجلی ختم ہونے کی وجہ سے بند ہیں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ غزہ کے 35 ہسپتالوں میں سے 18 ہسپتال سروس سے باہر ہیں۔

’اونروا‘کے 92 ملازمین جاں بحق

دوسری طرف اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں "وحشیانہ" جنگ کے آغاز کے بعد سے ایجنسی کے 92 ملازمین مارے جا چکے ہیں۔

لازارینی نے "ایکس" پلیٹ فارم پرایک ٹویٹ میں لکھا کہ "اسرائیل کے نفرت انگیز حملے، وحشیانہ جنگ اور غزہ میں محاصرے کو اب ایک مہینہ گذر چکا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "میں غزہ میں یو این آر ڈبلیو اے کے 92 ساتھیوں کے قتل پر بہت غمزدہ ہوں۔ انہوں نے ایسی قربانی دی ہے جو ہم نہیں دے سکتے"۔ انہوں نے ایک بار پھر انسانیت کی خاطر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

القدس ہسپتال سے رابطہ منقطع

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے ڈائریکٹر جنرل مروان الجیلانی نے کہا ہے کہ وزارت صحت کا تل الھوا کے علاقے میں واقع القدس ہسپتال میں کام کرنے والے طبی عملے سے مکمل رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ہسپتال کےاطراف میں ہونے والی شدید بمباری کے بعد سامنے آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "القدس ہسپتال کی انتظامیہ نے آج صبح ایندھن کی کمی کی وجہ سے ہسپتال کے مین الیکٹریکل جنریٹر کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

الجیلانی نے وضاحت کی کہ"مین جنریٹر کو بند کرنے کا مطلب ہے آپریٹنگ کمروں، انتہائی نگہداشت کے کمروں اور پانی کے پمپنگ کی بجلی بند ہوچکی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ القدس ہسپتال کی صورتحال نہ صرف ایندھن کے لحاظ سے بلکہ پانی اور خوراک کے حوالے سے بھی نازک ہے۔ القدس ہسپتال میں نہ کھانا ہے نہ پانی اور نہ ہی اس کے باہر کسی قسم کی نقل و حرکت ہو سکتی ہے۔ ہسپتال کے اطراف کو بدترین بمباری کا نشانہ بنایاگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں