فلسطین اسرائیل تنازع

ہم 12 غیر ملکیوں کو رہا کرنے والے تھے لیکن اسرائیل نے اس میں رکاوٹ ڈالی: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ نے منگل کو کہا ہے کہ ان کی جماعت کئی روز قبل غزہ میں غیر ملکی شہریت والے 12 قیدیوں کو رہا کرنے والی تھی لیکن اسرائیل نے اس میں رکاوٹ ڈالی۔

ابو عبیدہ نے تصدیق کی کہ القسام بریگیڈ اب بھی ان قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن میدانی صورتحال اور اسرائیلی حملہ "ان کی جانوں کے لیے خطرہ ہے جو اس کام میں رکاوٹ ہے۔"

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں لڑائی میں "چھوٹی ٹیکٹیکل جنگ بندی" پر غور کرے گا تاکہ انسانی امداد کے داخلے میں آسانی ہو یا حماس کے زیر حراست لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی جا سکے لیکن انہوں نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود جنگ بندی کو مسترد کردی۔

اسرائیل ایک ماہ قبل جنوبی اسرائیل میں حماس کی جانب سے شروع کیے گئے اچانک آپریشن کے بعد سے غزہ کی پٹی پر بمباری کر رہا ہے۔ حماس نے اس کارروائی میں اسرائیلی فوجیوں اور غیرملکیوں سمیت 240 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اسرائیل نے بمباری روکنے کے بڑھتے مطالبات مسترد کر دیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کو پہلے رہا کیا جانا چاہیے، جب کہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ انھیں رہا نہیں کرے گی اور نہ ہی غزہ پر حملے کے دوران لڑائی روکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں