"جنگ بند کرو"،اسرائیلی بمباری میں اپنے خاندان کو کھو دینے والی فلسطینی لڑکی کی فریاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہر گذرتے لمحے قتل وغارت گری کے المناک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک 10,000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں سے نصف کے قریب بچے ہیں اور تقریباً 26,000 دیگر زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ بے گھر ہونے والوں کو نہ خوراک میسر ہے ، نہ پانی نہ بجلی اور بہ بنیادی سہولیات میسر ہیں۔

غزہ کی ایک مصیبت زدہ لڑکی جس کا پورا خاندان مارا گیا نے کہا کہ "میرا خاندان مر گیا ہے، میرے خاندان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے، ہم جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے‘‘۔

جب اس کے خاندان کے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو مر چکے تھے، تو اس نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ "میری ماں، میری بہنیں، میرے دادا، میرے شوہر اور میرے چچا اور کئی دوسرے اقارب شہید ہوچکے"۔

اس نے چلا کر کہا کہ "جنگ ختم کرو، میری ماں مرگئی وہ میرے بیٹے کے لیے کھانا بنا رہی تھی۔ انھوں نے گھر پر بمباری کی۔ پورا گھر ہم پر آ گرا۔ خدا کی قسم میں کسی بھی شہری کے گھر بیٹھنے سے ڈرتی ہوں۔ گھر نہیں ہے‘‘۔ ہمارے سارے گھر تباہ ہو گئے‘‘۔

اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیمیں، عرب دنیا کے رہ نما اور دنیا کے دیگر ممالک جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر واشنگٹن غزہ میں جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں