’’نیتن یاہو سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کے لیے خطرہ بن گئے ہیں‘‘

غزہ کی سکیورٹی کی بجائے اسرائیلی دفاع بہتر کرنے کی ضرورت ہے: ایہود المرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ نے سات اکتوبر کو حماس کے اچانک حملوں کو نہ روک سکنے کے بعد نیتن یاہو کو جذباتی اعتبار سے ٹوٹ چکی شخصیت قرار دیا ہے۔

سات اکتوبر کو بڑی ناکامی کے بعد اب وہ غزہ کو کنٹرول کرنے کی بات بھی وہ اپنے حساب کتاب کی غلطی کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ کہ وہ غزہ کو غیر متعین مدت کے لئے کنٹرول کر سکیں گے۔

اپنے اسرائیل حماس جنگ کے پس منظر میں ’’العربیہ‘‘ کو دیے گیے ایک انٹرویو کے دوران سابق وزیر اعظم نے کہا 'نیتن یاہو سات اکتوبر کے بعد ایک سکڑی ہوئی شخص کے طور پر سامنے ہیں۔ وہ جذباتی طور پر شکستہ شخصیت بن جانے کی وجہ سے خود اسرائیل کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔

اولمرٹ نے اس چیز پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا اسرائیل کو اپنی ترجیحات پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے اس کے بدلے میں فلسطینی ریاست کے موضوع پر بھی بات کرنی چاہیے۔

سابق اسرائیلی رہنما نے اسرائیل غزہ کو مکمل سکیورٹی دینے کے معاملے پر چوکنا کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ آسان نہیں ہے ۔واضح رہے کہ نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کو جنگ کے بعد ایک طویل عرصے تک سکیورٹی دے سکتا ہے۔

نیتن یاہو سے ایک انٹرویو کے دوران پوچھا گیا تھا کہ غزہ پر جنگ کے بعد غزہ پر کس کی حکمرانی ہو گی؟ جوابا یاہو نے کہا میں یقین رکھتا ہوں اسرائیل ایک غیر معینہ مدت کے لیے غزہ کی ذمے داری سنبھال سکتا ہے۔

اولمرٹ نے دلیل دیتے ہوئے یاہو کے بارے میں کہا کہ یہ اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ غزہ کو اپنے حفاظت یا کنٹرول میں لیں۔ اسرائیل کا فائدہ اس میں ہے کہ ہم اپنے ملک کی حفاظت سات اکتوبر سے مختلف انداز میں کریں بجائے اس کے کہ ہم غزہ کو کنٹرول کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں