فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی بمباری سے تقریباً ایک ماہ کے دوران 41 صحافی جاں بحق

50 دفاتر جزوی یا مکمل تباہ، ہر روز اوسطاً ایک سے زیادہ صحافیوں کی ہلاکت جاری، 'آر ایس ایف ' کی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری کے دوسرے ماہ کے آغاز میں مرتب اعداد و شمار کے مطابق 41 صحافی بمباری کی زد میں آ کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار رپورٹرز ماورائے سرحدات ( رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز ) نے ایک بیان میں جاری کیے ہیں۔

یہ سب اسرائیل کی طرف سے اندھا دھند بمباری کا نشانہ بنا ہے۔ صحافیوں کی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں صحافیوں کو بچانے میں عدم دلچسپی کا کردار اہم ہے۔ تاہم دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہا اس نے صحافیوں کو ہدف بنا کر نہیں مارا ہے

ماہ اکتوبر میں لبنانی فوٹو جرنلسٹ اعصام عبداللہ کی ہلاکت اسرائیلی شیلنگ سے ہوئی تھی ۔ اس وقت بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی فوج نے ٹارگٹ کر کے صحافیوں ہلاک کیا ہے۔

15 اکتوبر 2023 کو شہر بیروت میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کے دوران لوگ 13 اکتوبر کو اسرائیل کے ساتھ سرحدی گاؤں الما الشعب میں اسرائیلی گولہ باری سے ہلاک ہونے والے ویڈیو صحافی عصام عبداللہ کے پلے کارڈز اور پورٹریٹ اٹھا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
15 اکتوبر 2023 کو شہر بیروت میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کے دوران لوگ 13 اکتوبر کو اسرائیل کے ساتھ سرحدی گاؤں الما الشعب میں اسرائیلی گولہ باری سے ہلاک ہونے والے ویڈیو صحافی عصام عبداللہ کے پلے کارڈز اور پورٹریٹ اٹھا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

اعصام عبداللہ اور ان کے ساتھی صحافی حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جنوبی لبنان میں جھڑپوں کی کوریج کر رہے تھے۔

اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ واضح طور پر دیکھا گیا تھا کہ صحافی اتفاقاً نشانہ نہیں بنےتھے بلکہ اسرائیلی فوج نے انہیں جانتے بوجھتے ٹارگٹ کیا گیا تھا ، یہ صحافی ہیں جو کوریج کے لیے موجود ہیں۔

'آر ایس ایف' نے بھی اپنی رپورٹ میں یہی کہا ہے کہ ' یہ نہیں مانا جا سکتا کہ صحافی غلطی سے نشانہ بنے کیونکہ یہ لوگ ایک پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے تھے جہاں سے انہیں صاف پہچانا جاسکتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔

'آر ایس ایف' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے 'غزہ میں صحافیون کے لیے کوئی بھی جگہ اب محفوظ نہیں ہے۔' اس صدی کی جنگوں میں سے یہ سب سے ہلاکت خیز جنگ بن چکی ہے۔ اس لیے ہر لمحے موت کا خوف موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی پر اب تک 36 صحافیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ آر ایس ایف کے مطابق ان 36 میں سے 10 کی ہلاکتیں واقعات کی کوریج کے دوران ہوئی ہیں۔ یہاں صحافیوں کو موت سے بچانے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

رپورٹ میں میڈیا کے دفاتر اور دیگر متعلقہ صحافتی مراکز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اب تک 50 سے زائد مقامات کو بمباری سے جزوی یا کلی طور تباہی دیکھنا پڑ چکی ہے ۔

3 نومبر کو اسرائیلی طیاروں نے غزہ میں حاجی ٹاور کو بمباری کا نشانہ بنایا اس میں الجزیرہ ، اے ایف پی، اور عین میڈیا کے علاوہ کئی میڈیا ہاوسز کے دفاتر تھے۔ ان سب کو بھی نقصان پہنچا۔

اس واقعے سے پانچ دن قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے اے ایف پی اور رائٹرز کو کہلا بھیجا تھا کہ ان کے صحافیوں کے لیے یہاں کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ انہیں کچھ نہیں ہو گا۔

آر ایس ایف کے مشرق وسطیٰ کے ڈیسک کے سربراہ نے کہا جو اس جنگ میں صحافیوں کے ساتھ ہو رہا ہے یہ صحافت کے ساتھ المیہ ہے۔

فلسطینی صحافی محمد ابوحصیرہ
فلسطینی صحافی محمد ابوحصیرہ

سات اکتوبر سے مسلسل ہر روز ایک سے زائد رپورٹر اوسطاً ہلاک ہورہے ہیں۔ اب تک کی آخری ہلاکت جس صحافی کی ہوئی ہے وہ محمد ابو حصیرہ کی ہے۔ وہ اپنے خاندان کے 42 افراد کے ساتھ 5 نومبر کی رات ہونے والی بمباری سے جاں بحق ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں