فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی نرس کا جنگ زدہ غزہ میں زندگی کے تلخ حقائق کا بیان

امریکی نرس نے کہا ہے کہ تازہ کھلے جلے ہوئے اور زخموں والے اور جزوی کٹے ہوئے جسموں والے بچے تھے جو ان حالات میں گھوم پھر رہے تھے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے ساتھ کام کرنے والی ایک امریکی نرس جو حال ہی میں جنگ زدہ غزہ سے واپس آئی ہیں، نے حالیہ اسرائیلی بمباری کے دوران محاصرے میں گذرنے والی زندگی کے تلخ حقائق بیان کیے ہیں۔

سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایملی کالہان نے بچوں کے تمام جسموں پر جلے ہوئے زخموں کے ساتھ ساتھ مریضوں کو پرہجوم ہسپتالوں سے کم وسائل والے پناہ گزین کیمپوں میں منتقلی کے پریشان کن مناظر کی تفصیل بیان کی۔

انہوں نے سی این این کو بتایا، "چونکہ ہسپتال بہت بھرے پڑے ہیں تو مریضوں کو [علاج کے بعد] فوراً ڈسچارج کیا جا رہا ہے۔" اور مزید کہا کہ پھر بچوں کو پناہ گزین کیمپوں میں بھیج دیا جاتا تھا جہاں رواں پانی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی نہیں تھی۔

خستہ حال کوارٹرز میں 22,000 سے زیادہ بے گھر افراد کے لیے پانی اور صفائی کی شدید قلت کا حوالہ دیتے ہوئے کالہان نے یو این آر ڈبلیو اے کے زیرِ انتظام خان یونس ٹریننگ سینٹر کے سنگین حالات پر روشنی ڈالی۔

1 نومبر 2023 کو شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں مکانات پر اسرائیلی حملوں کے ایک دن بعد فلسطینی ممکنہ ہلاکتوں کے لیے جگہ کی تلاشی لے رہے ہیں۔ (رائٹرز)
1 نومبر 2023 کو شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں مکانات پر اسرائیلی حملوں کے ایک دن بعد فلسطینی ممکنہ ہلاکتوں کے لیے جگہ کی تلاشی لے رہے ہیں۔ (رائٹرز)

انہوں نے بات جاری رکھی، "انہیں ہر 12 میں سے دو گھنٹے پانی دیا جاتا ہے۔" اور مزید کہا، "جنوبی غزہ میں خان یونس ٹریننگ سینٹر میں ہزاروں پناہ گزینوں کے لیے"صرف چار بیت الخلاء تھے۔"

کالہان نے مزید کہا، "تازہ کھلے جلے ہوئے اور زخموں والے اور جزوی کٹے ہوئے جسموں والے بچے تھے جو ان حالات میں گھوم پھر رہے تھے۔"

انہوں نے کہا۔ "والدین اپنے بچوں کو ہمارے پاس لا کر پوچھتے تھے، 'براہ کرم کیا آپ مدد کر سکتی ہیں؟ براہ کرم آپ مدد کر سکتی ہیں؟' اور ہمارے پاس ضرورت کا کوئی سامان نہیں ہے۔"

23 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام اسکول میں خوراک کی قلت کے درمیان اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اپنے گھروں سے بھاگنے والے فلسطینی رضاکاروں کی طرف سے پیش کردہ خیراتی کھانے سے اپنا حصہ لینے کے لیے جمع ہیں۔ (رائٹرز)
23 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام اسکول میں خوراک کی قلت کے درمیان اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اپنے گھروں سے بھاگنے والے فلسطینی رضاکاروں کی طرف سے پیش کردہ خیراتی کھانے سے اپنا حصہ لینے کے لیے جمع ہیں۔ (رائٹرز)

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی دفتر کے ترجمان جینس لارکے نے کہا ہے کہ غزہ میں ہر طرح کی خدمات ایندھن کی فراہمی کے بغیر "آخری دم" کے قریب ہیں۔ اور مزید کہا کہ اب تک انکلیو تک پہنچنے والے 569 امدادی ٹرکوں میں سے کسی میں بھی ایندھن نہیں تھا۔

کئی بڑے ہسپتال جنریٹرز کے لیے ایندھن کی کمی کی وجہ سے یا تو سروس سے قاصر ہو چکے ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔

7 نومبر 2023 کو غزہ شہر میں اسرائیل-حماس تنازعہ کے درمیان کینسر کی مریضہ ایک فلسطینی بچی رانتیسی ہسپتال کے کینسر یونٹ میں بستر پر لیٹی ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق رسد ختم ہو رہی ہے اور درجنوں مریضوں کو خطرہ لاحق ہے۔ (رائٹرز)
7 نومبر 2023 کو غزہ شہر میں اسرائیل-حماس تنازعہ کے درمیان کینسر کی مریضہ ایک فلسطینی بچی رانتیسی ہسپتال کے کینسر یونٹ میں بستر پر لیٹی ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق رسد ختم ہو رہی ہے اور درجنوں مریضوں کو خطرہ لاحق ہے۔ (رائٹرز)

امداد کو محفوظ طریقے سے داخلے کی اجازت دینے کے لیے انسانی بنیادوں پر تؤقف یا جنگ بندی کے کئی مطالبات کیے گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ کا بحران نہ صرف انکلیو کو متأثر کر رہا ہے بلکہ یہ "انسانیت کا بحران" ہے۔

گوٹیریس نے کہا، "تنازع کے فریقین اور درحقیقت بین الاقوامی برادری کو فوری اور بنیادی ذمہ داری کا سامنا ہے: اس غیر انسانی اجتماعی ابتلا کو روکنا اور ڈرامائی طور پر غزہ کے لیے انسانی امداد کو بڑھانا۔"

انہوں نے بات جاری رکھی: "غزہ میں یہ ڈراؤنا خواب ایک انسانی بحران سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ انسانیت کا بحران ہے۔"

عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان کرسچن لنڈمیئر کے مطابق اقوامِ متحدہ کی متعدد تنظیمیں صحتِ عامہ کے بحران کے آئندہ خطرے کے بارے میں انتباہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ صحت کی مزید سہولیات بند ہو رہی ہیں۔

 7 نومبر 2023 کو غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال میں ایک فلسطینی خاتون اسرائیلی حملے میں زخمی بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔ (رائٹرز)
7 نومبر 2023 کو غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال میں ایک فلسطینی خاتون اسرائیلی حملے میں زخمی بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔ (رائٹرز)

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جوابی حملوں کے بعد سے اب تک 10,222 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 4,000 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں