غزہ، غرب اردن اور القدس میں فلسطینیوں کو تحفظ کی ضرورت ہے: فلسطینی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے جمعرات کو پیرس میں ایک ڈونرز کانفرنس میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔

"غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے"

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل حماس کے خلاف نہیں بلکہ تمام فلسطینیوں کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔

انہوں نے غزہ میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پٹی کے مکینوں کے لیے با معنی اور موثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

شمالی غزہ میں کیمپوں کو خالی کرنے کی مذمت

انہوں نے جنوبی غزہ کی پٹی میں نقل مکانی کرنے والوں کے لیے کسی بھی نئے کیمپ کے قیام کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کیمپوں کا مطلب شمالی غزہ کا مکمل خالی ہونا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ جنگ کو روکنے کے لیے کتنے فلسطینیوں کو مارا جانا چاہیے؟۔

"خاموش نقل مکانی"

دوسری جانب جمعرات کے روز فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ مغربی کنارے میں "خاموش نقل مکانی" کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ غزہ پر جنگ "مغربی کنارے میں خاموش نقل مکانی کے جرم کو گہرا کرنے اور مزید زمین کو کنٹرول کرنے اور اسے آبادکاری کے مفادات کے لیے مختص کرنے کے لیے ایک سرکاری اسرائیلی جنگ کے ساتھ مترادف ہے"۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکومت اور ان ممالک کو جو اس کی حمایت کرتے ہیں اور اسے تحفظ فراہم کرتے ہیں، فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے نتائج اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں