نکبہ اورآج کی غزہ جنگ میں کوئی فرق نہیں،تاریخ خود کو دہرارہی ہے،مناظرالگ مگرالمیہ ایک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ نے 75 سال قبل صہیونی ریاست کے قیام کے وقت جنگ اور المیے کی یاد تازی کردی ہے۔

اوپر دی گئی دونوں تصویروں میں 75 سال کا فرق ہے۔ ان طویل سالوں کے باوجود المیہ وہی ہے جو پون صدی قبل فلسطینیوں کو درپیش تھا۔

بڑی مماثلت اور 75 سال کا فرق!

پہلی تصویر بلیک اینڈ وائٹ ہے جس میں "نکبہ" کے دنوں کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔’نکبہ‘ ایک فلسطینی اصطلاح ہے جو 1948 میں بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے گھروں سے باہر بے گھر ہونے سے متعلق انسانی المیے کو بیان کرتی ہے۔ یہ اصطلاح اس وقت اختیار کی گئی تھی جب اسرائیلی ریاست کے قیام کے بدلے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کیا گیا۔

دوسری تصویر رنگین مگر کہانی وہی ہے۔ یہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شمالی غزہ کے رہائشیوں سے جنوبی غزہ کی پٹی میں منتقل ہونے کا مطالبہ کرنے کے بعد کا منظر ہے جب اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر بمباری میں شدت لانے کی دھمکی دی اور مکینوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا۔

شاید دونوں تصویروں میں زمانی کے فرق کے باوجود بہت زیادہ مماثلت ہے، گویا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ یہ دونوں تصاویر جوڑ کر ایک پکچر کے طور پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پوسٹ کی گئی ہے۔ پہلی تصویر اسرائیلی فوج کے فلسطین کی بیشتر اراضی پر قبضہ کرنے اور تقریباً بے دخل کرنے کے بعد سامنے آئی۔ یہ تصویر اس دور کی ہے جب 1948ء میں فلسطینی اراضی پر اسرائیلی ریاست کے قیام کے وقت 750,000 فلسطینیوں کو بے گھر کیا گیا۔

شمالی غزہ سے بے گھر ہونا
شمالی غزہ سے بے گھر ہونا

تب بھی اسرائیلی جتھوں نے فلسطینیوں کے خلاف درجنوں قتل عام، مظالم اور لوٹ مار کی کارروائیاں کیں، 500 سے زائد دیہاتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، فلسطینیوں کو تباہ کیا گیا۔ اہم فلسطینی شہروں کے ساتھ ساتھ عربی جغرافیائی ناموں کو مٹا دیا گیا اور اسے عبرانی شکل دے دی گئی۔

پچہتر سال کے بعد اسرائیل نے اپنے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ فلسطینی غزہ کی پٹی کے شمال سے اس کے جنوب کی طرف پیدل یا چھوٹی گاڑیوں پر، بمباری کےسائے میں نقل مکانی کررہے ہیں۔ گویا پچہتر سال قبل شروع ہونے والی یہ نقل مکانی آج زیادہ تکلیف دہ انداز میں جاری ہے۔

ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قبل جنگ کے آغاز کے بعد سےاسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی غزہ کی پٹی کو خالی کر دیں، جس سے بین الاقوامی اندازوں کے مطابق تقریباً 15 لاکھ افراد غزہ کی پٹی کے اندر سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق چھ لاکھ فلسطینی غزہ شہر سے پٹی کے جنوب میں بے گھر ہوئے۔

تاہم شمال سے وسطی یا جنوبی علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے والے غزہ کے لوگوں کے مصائب ختم نہیں ہوئے جہاں 550,000 سے زیادہ لوگ UNRWA کے 92 کیمپوں میں رہتے ہیں۔

شمالی غزہ سے بے گھر ہونا
شمالی غزہ سے بے گھر ہونا

زمین پر سب سے شدید لڑائیاں

قابل ذکر ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی غزہ کی پٹی میں 4 ہفتوں سے زمین پر شدید ترین لڑائیاں جاری ہیں۔

اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کا محاصرہ کر کے اسے اسرائیلی ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے جنوبی اور شمالی حصوں میں تقسیم کر دیا۔

جبکہ اسرائیلی مہم جوئی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 10,569 ہو گئی، جن میں 4,324 بچے، 2,823 خواتین اور 649 بزرگ شامل ہیں، 26,475 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ مسلسل 33ویں روز بھی گھروں اور آبادی والے علاقوں پر بمباری اور لوگوں کو بے گھر کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں