فلسطین اسرائیل تنازع

نیتن ہاہو کا ایک بار پھر جنگ بندی سے انکار

جب تک ہمارے یرغمالی رہا نہیں ہوتے جنگ بندی نہیں ہو گی: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم جن کی فوج غزہ پر ایک ماہ سے زائد پر محیط وسیع تر اور منظم بمباری کر کے اب تک ساڑھے دس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جاں بحق کر چکی ہے اور 24 لاکھ کی غزہ کی آبادی کو کافی حد تک تباہ کر چکی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر جنگ بندی سے انکار کیا ہے۔

وہ ان رپورٹس کے بارے میں بات کر رہے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ حماس کے ساتھ کوئی عارضی جنگ بندی ہونے جا رہی ہے۔

اس سے قبل حماس کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا تھا درجنوں یرغمالیوں کو رہا کر نے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ اس ذریعے نے اس رہائی کے زیر بحث مرحلے میں 6 امریکیوں کی امکانی رہائی کی بھی اطلاع دی۔ اس کے بدلے میں تین دن کے لیے جنگ بندی کی توقع کی جارہی ہے۔حماس سے متعلق اس ذریعے اس جاری رہائی کی بات چیت کے بارے میں کہنا تھا یہ اس لیے جاری ہے کہ مصر کو امدادی کارروائیوں کے لیے نسبتاً زیادہ وقت مل سکے۔ تاہم اس بات چیت میں جنگ بندی کے دورانیے اور غزہ کے شمالی حصے کو اس جنگ بندی میں لانے کے ایشوز پر اختلاف چل رہا ہے۔

نیتن یاہو نے اس بارے میں کہا ہے کہ 'میں چاہتا ہوں کہ اس طرح کی تمام افواہوں کی تردید کر دوں اور ایک واجح چیز پر زور دوں کہ ہمارے یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔'

واضح رہے بدھ کے روز ہی اس سے سے ذرا پہلے ایک اور ذریعے نے بھی بتایا تھا کہ قطر کے توسط سے دس سے پندرہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔ اس کے بدلے میں ایک سے دو دن تک کی جنگ بندی ہو سکتی ہے۔

سات اکتوبر سے اب تک ساڑھے دس ہزار سے زائد فلسطینی شہری غزہ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں ایک بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

یرغمالی افراد کے خاندانوں کی طرف سے اس طرح کی رہائی کی اطلاعات کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ یرغمالی خاندانوں کے فورم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 'انہیں ہر یرغمالی کی رہائی پر خوشی ہو گی۔ تاہم تمام یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے کوششوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ '

قطر اس سلسے میں تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اب تک اس کی کوششوں سے متعدد یرغمالی رہائی پا چکے ہیں۔ قطر ہی وہ ملک ہے جہاں حماس نے اپنا سیاسی دفتر کھول رکھا ہے۔ یہ خلیجی ملک فلسطین کاز کا ایک بڑا حامی تصور کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں