فلسطین اسرائیل تنازع

ڈبلیو ایچ او کا غزہ میں بیماریاں پھیلنے کا انتباہ، انسانی امداد کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارۂ صحت نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ اسرائیلی فضائی بمباری کی وجہ سے غزہ کی پٹی کو بیماریاں پھیلنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے جس سے صحت کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، صاف پانی تک رسائی متأثر ہوئی ہے اور لوگ بڑی تعداد میں پناہ گاہوں میں جمع ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا، "چونکہ غزہ میں شدید لڑائیوں کی وجہ سے ہلاک شدگان اور زخمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو بڑے ہجوم اور صحت، پانی اور صفائی کے نظام میں خلل سے ایک اضافی خطرہ پیدا ہو گیا ہے: متعدی بیماریوں کا تیزی سے پھیلاؤ۔"

"کچھ پریشان کن رجحانات پہلے ہی ابھر رہے ہیں۔"

کہا گیا ہے کہ گنجان آباد انکلیو میں ایندھن کی کمی کی وجہ سے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹس بند ہو گئے جس سے اسہال جیسے بیکٹیریل انفیکشن کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا۔

اقوامِ متحدہ اور انسانی امدادی گروہوں کے مطالبات کے باوجود اسرائیل نے اس خدشے کے پیشِ نظر ایندھن کی ترسیل سے انکار کر دیا ہے کہ یہ حماس کے ممکنہ استعمال میں آ سکتا ہے جبکہ غزہ تک خوراک، پانی اور ادویات کی ترسیل انتہائی محدود ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ اکتوبر کے وسط سے اسہال کے 33,551 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں بہت بڑی تعداد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔

ادارے نے کہا کہ متأثرہ بچوں کی تعداد میں 2021 اور 2022 کے دوران اس عمر کے گروپ میں ماہانہ اوسطاً 2,000 کیسز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایندھن کی کمی سے ٹھوس فضلہ جمع کرنے میں بھی خلل پیدا ہوا ہے جس کے بارے میں عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ اس سے "کیڑوں اور چوہوں کی اقسام کے تیزی سے اور وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو گیا ہے جو بیماریوں میں مبتلا اور انہیں منتقل کر سکتے ہیں۔"

ادارے نے کہا ہے کہ صحت کی سہولیات کے لیے انفیکشن سے حفاظت کے بنیادی اقدامات کو برقرار رکھنا "تقریباً ناممکن" تھا جس سے صدمے، سرجری اور بچے کی پیدائش سے ہونے والے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں