کیا حماس نے امریکی میرین فورسز کے اہلکار یرغمال بنا لیے ہیں؟

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دکھائے گئے فوجیوں کا تعلق کس ملک سے اور انہیں کس نے یرغمال بنایا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی پرحماس اور اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی لڑائی کے بعد انٹرنیٹ پر جعلی ویڈیوز ، تصاویر اور جنگی مناظر کی بھرمار ہے۔

حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان 27 اکتوبر سے شمالی غزہ کی پٹی میں پرتشدد زمینی لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ کئی ہفتوں کی مسلسل بمباری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک کلپ تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو پوسٹ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اس میں دکھائے گئے فوجی امریکی میرینز کے اہلکار ہیں جنہیں حماس نے یرغمال بنا لیا ہے۔ مگر یہ حقیقت نہیں۔

سوشل میڈیا پر دسیوں ہزار شیئرز حاصل کرنے والی اس ویڈیو میں کئی فوجیوں کو دکھایا گیا ہے جو ایک سرنگ کےاندرنظر آتے ہیں۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق کلپ کے ناشرین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ قیدی 11/1/2023 کو یرغمال بنائے گئے تھے اور یہ امریکی میرینز ہیں"۔

تاہم اس ویڈیو کا غزہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انٹرنیٹ پر اس ویڈیو کو سرچ کرنے سے پتا چلا کہ اس ویڈیو کا امریکی فوجیوں اور حماس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کلپ 14 اکتوبر 2023 کو یعنی غزہ میں زمینی آپریشن شروع ہونے سے پہلے X ویب سائٹ (سابقہ ٹویٹر) پر ایک اکاؤنٹ پر نشر کیا گیا تھا۔

ویڈیو کے ساتھ ایک کیپشن بھی تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ اس میں گرفتار روسی فوجیوں کو یوکرین کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد دکھایا گیا ہے۔

یہ کلپ ایک ٹیلیگرام چینل پر بھی پوسٹ کیا گیا تھا جس میں ان روسی فوجیوں کے نام اور بٹالین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اچانک حملہ کیا تھا۔ غزہ سے سرحد پار کیےگئے اس حملے میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ حماس کے جنگجوؤں نے 240 کو افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری اور 27 اکتوبر کو زمینی کارروائی شروع کی۔ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 10,569 فلسطینی شہید اور 26,475 زخمی ہو چکے ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں