ایران نے حماس کی مدد نہ کرنے کا ' جی سیون' کا مطالبہ مسترد کر دیا

' جی سیون' بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت کرے، ایرانی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے گروپ سات کے ملکوں کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں حماس جنگجووں کی مدد کرنے سے باز رہنے اور خطے کی صورت حال کو بگاڑنے سے رکنے کا کہا گیا تھا۔

تہران کا اس مطالبے پر تبصرہ ایک دن کے وقفے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایک روز قبل گروپ سات کے وزرائے خارجہ نے ٹوکیو میں اپنی ' ایڈوانس اکانومیز ' کے اجلاس میں اسرائیل حماس جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفے پر زور دیا تھا۔

واضح رہے اب تک اس جنگ میں اسرائیلی بمباری سے غزہ میں ساڑھے دس ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں زیادہ تر تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

'جی 7 ' اجلاس نے ایران سے کہا تھا کہ وہ وہ حماس اور حزب اللہ وغیرہ کی مدد نہ کرے نیز ایسے مزید اقدامات سے دور رہے جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بنیں۔

جمعرات کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ' جی سیون ' کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ واضح رہے ' جی سیون ' میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی ، فرانس ، کینیڈا، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔

ایرانی ترجمان نے کہا ' ایران کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ صیہونی جارحیت پسند رجیم اسرائیل کے فوجی حملوں غزہ کے شہریوں کو بچاسکے۔ '

'ایران کو ' جی سیون ' کے ٹوکیو اجلاس سے توقع تو یہ تھی کہ اس میں شریک وزرائے خارجہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں گے اور صیہونی رجیم کے بین الاقوامی قوانین کے خلاف اقدامات کی مذمت کریں گے۔ کیوںکہ صیہونی رجیم انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔

ایران فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کا حامی ہے ۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ' ایران کے نزدیک مزاحمتی گروپوں کی حمایت کرنا فرض ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں