حماس کی کارروائیاں فلسطینیوں کے خلاف جنگ کا جواز نہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ، غیر سرکاری تنظیمیں، عرب دنیا اور دیگر ممالک غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی حالات کے نتیجے میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر نے ایک نیا بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حماس کی کارروائیوں کا یہ مطلب نہیں کہ تمام فلسطینیوں پر جنگ مسلط کردی جائے۔

ایک تباہ کن اور ناقابل قبول صورتحال!

اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس نے وضاحت کی کہ غزہ کی صورتحال تباہ کن اور ناقابل قبول ہے۔ حماس کے اقدامات فلسطینیوں کے خلاف جنگ کا جواز نہیں بن سکتے۔

انہوں نے جمعرات کو پیرس سے ایک کانفرنس میں مزید کہا کہ ان کے ملازمین نے غزہ میں محفوظ زونز کے قیام میں حصہ نہیں لیا۔

انہوں نے ایندھن سمیت امداد کو محفوظ طریقے سے اور بغیر کسی پابندی کے غزہ تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو روزانہ پہنچنے والی امداد سے کم از کم 5 گنا زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں امداد کے لیے ایک سے زیادہ کراسنگ پوائنٹ ہونے چاہئیں اور انسانی مقاصد کے لیے جنگ بندی تک پہنچنا ضروری اور اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

یہ اعلان تنظیم کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے اس حقیقت کے حوالے سے کیا کہ غزہ میں سات لاکھ لوگ انتہائی خراب حالات میں رہ رہے ہیں۔ پٹی میں صحت اور ماحولیاتی خطرات بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ میں ایجنسی کے 99 ملازمین مارے گئے۔

یو این اہلکار نے مزید کہا کہ پورے محلوں کا وجود مٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ "اجتماعی سزا" کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں