’’کوئی جنگ بندی نہیں‘‘ حماس نے سات اکتوبر کے حملے کا ہدف بتا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اگرچہ حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر کیے گئے اچانک حملے کے کئی پہلوؤں اب بھی سربستہ راز ہیں۔ تاہم حماس نے کچھ رہ نماؤں نے اس حملے کے مقاصد کا انکشاف کیا۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن خلیل الحیہ نے کہا کہ "صرف فوجی تصادم کو نہیں بلکہ پورے توازن کو بدلنا ضروری ہے۔"

انہوں نے کہا کہ حماس اپنے حملے کے ذریعے "مسئلہ فلسطین کو میز پر واپس لانے" میں کامیاب ہوئی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ "اب خطے میں کوئی بھی پرسکون محسوس نہیں کرتا"۔

اسرائیل کا ردعمل سب کو معلوم ہے

انہوں نے وضاحت کی کہ "جو چیز توازن کو تبدیل کرسکتی ہے وہ ان کے خیال میں ایک عظیم عمل ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی ردعمل بلاشبہ معلوم تھا کہ یہ بہت سخت ہو گا"۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ انہیں "عوام اور دنیا کو بتانا ہوگا کہ فلسطینی کاز ختم نہیں ہوا"ْ۔

خلیل الحیہ نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کا مقصد غزہ کا نظم و نسق اور اسے پانی، بجلی وغیرہ کی فراہمی نہیں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ حماس اور القسام بریگیڈز نے دنیا کو گہری نیند سے بیدار کیا اور دکھایا کہ مسئلہ فلسطین میز پر موجود رہنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا یہ جنگ اس لیے نہیں ہوئی کہ ہمیں ایندھن چاہیے یا روزگار بلکہ اس کا مقصد صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہے‘‘۔

حماس کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ پورے ملک میں پھیلے گی اور عرب دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہو گی"۔

حماس کی توقعات

دریں اثنا ایک علاقائی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ حماس کو امید ہے کہ حملہ شروع ہونے کے بعد مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں فلسطینی اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے۔

تاہم یورپی اور عرب انٹیلی جنس سروسز کے چار اہلکاروں نے تصدیق کی کہ حزب اللہ کو اس حملے کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔

جس طرح غزہ سے باہر حماس کے سیاسی رہ نما اس حملے سے حیران تھےاسی طرح حزب اللہ کے لیے یہ اچھنبے کی بات تھی۔

عہدیداروں نے کہا کہ کچھ رہ نما اب سیاسی مقاصد کے ساتھ حملے کے پہلے دن اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو درست ثابت کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ حماس کے عہدیداروں نے اس سے قبل اس بات کی تردید کی تھی کہ حماس کے ارکان نے 7 اکتوبر کو کسی قسم کی خلاف ورزی کی تھی یا جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں جنگ آج جمعرات کو 34ویں دن میں جاری رہی۔ اسرائیلی حملوں کی تعداد 10,569 تک پہنچ گئی، جن میں 4,324 بچے اور 2,823 خواتین شامل ہیں جب کہ 26,475 فلسطینی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں