الشفاء ہسپتال غزہ پر اسرائیلی بمباری، 13 فلسطینی شہید، درجنوں زخمی

ہسپتالوں میں زخمیوں اور ڈاکٹروں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کی غزہ کے سب سے بڑے 'الشفاء ہسپتال' پر بمباری کے تازہ واقعے میں اب تک 13 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ بات غزہ کے سرکاری ذرائع کی طرف سے بتائی گئی ہے۔ حملہ جمعہ کے روز کیا گیا جس میں 13 ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

الشفاء ہسپتال غزہ شہر کے وسطی حصے میں ہے۔ جس کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی اس تازہ بمباری کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ابھی اس حملے کی مغربی میڈیا کے بعض 'آؤٹ لٹ' اپنے ذرائع سے تصدیق کر رہا ہے۔ ابھی تک اسرائیل بھی اس بارے میں خاموش ہیں۔

اسرائیل جسے اس جنگ میں امریکہ اور یورپی ملکوں کی حکومتوں کی کھلی اور بھرپور حمایت حاصل ہے اب تک بار بار ہسپتالوں اور ایمبولینسوں پر بمباری کر چکا ہے۔

اس صورت حال میں امریکی اور یورپی عوام اگرچہ سخت احتجاج کر رہے ہیں اور وہاں کی حکومت کو بھی سخت تنقید کا سامنا ہے لیکن اسرائیلی بمابری اور امریکہ و یورپی حکومتوں کی طرف سے اس کی حمایت میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔

الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیا نے اس بارے میں کہا 'الشفاء پر تازہ بمباری اسرائیلی ٹینکوں نے کی ہے۔' تاہم ہسپتال انتظامیہ کی اس تصدیق کے باوجود اسرائیلی فوج نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

البتہ اسرائیل نے جمعرات کے روز ہسپتال کے نزدیک شدید جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے اس نے جھڑپوں میں درجنوں فلسطینی "دہشت گرد" ہلاک کر دیے ہیں اور سرنگوں کو بھی توڑا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس الزام کو بھی دہرایا ہے کہ حماس ہسپتالوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

خصوصاً الشفاء ہسپتال کو اسرائیل پر حملوں کی رابطہ کاری کی جگہ اور کمانڈروں کے 'ہائیڈ آؤٹ' کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل کے اس الزام کی حماس کے علاوہ ہسپتال کے ڈاکٹر اور انتظامیہ بھی تردید کرتے ہیں۔

پچھلے دنوں انڈونیشیا کے ایک ادارے نے بھی اسرائیل کے ان بار بار لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا تھا۔ اسرائیل کی بمباری جو فضائیہ کے علاوہ زمین پر موجود ٹینکوں سے بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک غزہ میں گیارہ ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں