بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھی الشفا ہسپتال پر بمباری کی 'ویڈیوز' کی تصدیق کر دی

ویڈیوز بچوں کو ہلاک اور زخمی دکھاتی ہے۔ اسرائیلی فوج کا تبصرے سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے الشفا ہسپتال میں زخمی بچوں پر اسرائیلی بمباری کی جمعہ کے روز تصدیق بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی کر دی ہے۔ یہ خبر اور امریکی حمایت یافتہ اسرائیل کی ہسپتال میں بچوں پر بمباری کی تصویریں اور ویڈیوز پہلے سوشل میڈیا پر آ رہی تھیں۔

غزہ کی وزارت صحت نے بھی رپورٹ کا ہے کہ اسرائیل نے ہسپتال میں بمباری کی ہے، تاہم فوری طور پر اسرائیل کی فوج نے اس بارے میں سامنے آنے والی ویڈیوز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے یہ بمباری ہسپتال کے اس ' کورڈ ' حصے میں کی گئی ہے جو آؤٹ ڈور مریضوں کے شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ اس حصے میں قریبی علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینی رات کو قیام کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے نے اس بمباری کی تصدیق بھی کی ہے اور زخمی ہونےوالے بچوں اور دوسروں میں سے ایک کی ویڈیو بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک لڑکی جس نے سیاہ رنگ کا ٹراؤزر اور جامنی رنگ کی شرٹ پہن رکھی ہے ، ویڈیو میں اسے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی لڑکی کو ہسپتال کے داخلی دروازے کے قریب بھی ایک 'فوٹیج 'میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہسپتال ہی کی ویڈیو ہے۔ ہسپتال کا داخلی راستہ ان تصاویر کے ساتھ مماثلت رکھتا ہے جو سوشل میڈیا پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے وائرل ہوئیں۔

گویا سوشل میڈیا پر وہی جگہ دکھائی گئی ہے جو حقیقت میں بھی ہسپپتال کا حصہ ہے۔ ہسپتال کے حوالے سے پہلے 'اپ لوڈ 'کئ گئی 'ویڈیوز' بھی ان تازہ 'ویڈیوز ' اور تصاویر کی تصدیق کرتی ہیں کہ نئی ویڈیو کسی اور جگہ کی نہیں اسی الشفا ہسپتال کی ہے۔ جس پر اسرئیل نے بمباری کر کے بچوں اور دوسرے زخمیوں کو نشانہ بنا یا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں